سعودی تیل کمپنی آرامکو کے سربراہ امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کی وجہ سے دنیا میں تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔
لندن میں 2026 انرجی انٹیلی جنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ نہیں کھلتی، عالمی توانائی منڈی سپلائی میں کسی بھی نئی رکاوٹ کے سامنے انتہائی کمزور رہے گی۔
ذخائر معمول پر آنے میں کتنے سال لگ سکتے ہیں؟
سعودی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امین ناصر نے کہا کہ حالیہ تنازع کے دوران استعمال ہونے والے تیل کے ذخائر کو دوبارہ معمول کی سطح پر لانے میں دو سال تک لگ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑے ممالک کی جانب سے ہنگامی طور پر اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر جاری کرنا وقتی طور پر مارکیٹ کو سہارا دے سکتا ہے، مگر اس سے طلب اور رسد کا بنیادی عدم توازن ختم نہیں ہوگا۔
3 ارب بیرل کا نقصان
آرامکو سربراہ کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان 7 ماہ جاری رہنے والی جنگ کے نتیجے میں خطے میں تقریباً 3 ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ، یہ مقدار اس خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کے تقریباً نصف کے برابر ہے جو اسی عرصے میں عام حالات میں آبنائے ہرمز سے گزر سکتی تھیں۔
ایک ارب بیرل سے زائد تیل ذخائر سے نکالا گیا
امین ناصر نے بتایا کہ سپلائی کی کمی کا اثر کم کرنے کے لیے دنیا بھر کے ذخائر سے ایک ارب بیرل سے زائد تیل نکالا گیا ، مختلف حکومتوں نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 30 کروڑ سے زائد بیرل جاری کیے اور مزید مقدار جاری کرنے کے معاہدے بھی کیے۔
ان کے مطابق اضافی سپلائی کا بڑا حصہ تیل کمپنیوں کے اپنے ذخائر سے آیا، جسے انہوں نے مارکیٹ کی مدد کے لیے دستیاب “آخری بڑا ذریعہ” قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں تجارتی بنیادوں پر دستیاب تیل کے ذخائر 6 ارب بیرل سے کم رہ گئے ہیں، لیکن ان کا بیشتر حصہ فوری طور پر مارکیٹ میں لانا ممکن نہیں۔
آرامکو سربراہ نے خبردار کیا کہ عالمی توانائی کا نظام پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے اور سپلائی جاری رکھنے کے لیے دستیاب حفاظتی گنجائش بہت محدود ہو چکی ہے۔
جہازوں اور آرامکو کی تنصیبات پر حملے
امین ناصر کا بتانا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملے ہوئے، جبکہ آرامکو کی پائپ لائنوں، ریفائنریوں اور بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ، انہوں نے زور دیا کہ “شفافیت کے ذرائع کو جارحیت کے ذرائع میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔”