یمن میں سعودی اتحادی افواج اور یمنی فورسز کی جانب سے حوثی ملیشیا کے خلاف آپریشن فجر الیمن جاری ہے اتحادی افواج نے تعز شہر میں کارروائی کے دوران حوثی ملیشیا کے 250 جنگجوؤں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی اتحادی افواج کے مطابق تعز میں کارروائی کے دوران حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بڑی تعداد میں جنگجوؤں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ صعدہ شہر میں حوثیوں کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا جبکہ دارالحکومت صنعا میں بیلسٹک میزائل لانچر کو تباہ کیا گیا۔
سعودی اتحادی افواج کے مطابق کارروائی کا بنیادی مقصد بحیرہ احمر میں بالخصوص باب المندب کے اہم بحری راستے پر تجارتی اور دیگر بحری آمدورفت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران حوثی ملیشیا کے اسلحہ ڈپو کشتیوں کے گودام اور سمندری بارودی سرنگیں بھی تباہ کی گئیں جبکہ الحدیدہ گورنریٹ میں بھی فوجی کارروائی کی گئی۔
سعودی اتحاد کے مطابق جنوبی بحیرہ احمر کے آبی راستوں میں ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنا دیا گیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سمندری راستوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں سے خطے میں بحری تجارت اور جہاز رانی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب اتحادی اور یمنی فورسز نے گزشتہ روز باب المندب اور ذباب کے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا جس کے بعد جنوبی بحیرہ احمر کے اہم آبی راستوں کی سکیورٹی مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
دوسری جانب حوثی ملیشیا نے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایئرپورٹ اور سعودی آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تاہم حوثیوں کے ان دعوؤں اور سعودی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یمن میں جاری تازہ فوجی کارروائی کے باعث باب المندب اور جنوبی بحیرہ احمر کے بحری راستوں کی سکیورٹی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، کیونکہ یہ خطہ بین الاقوامی تجارت اور بحری آمدورفت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔