ایران سے کشیدگی،امریکہ نے خلیجی اتحادیوں کیلئے بڑا اعلان کر دیا

ایران سے کشیدگی،امریکہ نے خلیجی اتحادیوں کیلئے بڑا اعلان کر دیا

امریکا نے متحدہ عرب امارات، مصر اور کویت کے لیے اربوں ڈالر کے جدید ہتھیاروں اور فوجی معاونت کے پیکیجز کی منظوری دے دی ہے۔

اس دفاعی اقدام کا مقصد مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں اتحادی ممالک کی دفاعی صلاحیت بڑھانا ہے۔

خطے میں ڈرونز اور میزائل حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔

 امارات کے لیے بڑا معاہدہ

متحدہ عرب امارات کے لیے تقریباً ایک ارب 41 کروڑ ڈالر مالیت کے جدید ہتھیاروں کی منظوری دی گئی ہے۔

اس پیکیج میں پریسیژن کِل ویپن سسٹم دوم کی بڑی تعداد شامل ہے۔

معاہدے کے تحت تقریباً 10 ہزار گائیڈنس کٹس فراہم کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ دھماکا خیز وار ہیڈز، راکٹ موٹرز اور فیوز بھی پیکیج کا حصہ ہیں۔

امریکی پیشکش میں تکنیکی دستاویزات اور لاجسٹک معاونت بھی شامل ہے۔

 ایران کے تناظر میں دفاعی تیاری

امریکی اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

میزائل اور ڈرون خطرات نے خلیجی ممالک کے لیے فضائی دفاع کو اہم ترجیح بنا دیا ہے۔

امریکا اپنے اتحادی ممالک کی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے کو علاقائی سیکیورٹی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔

 امریکا کا مؤقف

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے دفاعی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔

ترجمان کے مطابق اس فروخت کا مقصد امارات کو موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے کے بنیادی فوجی توازن پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

 مصر اور کویت بھی شامل

امریکا نے مصر اور کویت کے لیے بھی الگ الگ دفاعی معاہدوں کی منظوری دی ہے۔

ان سودوں میں بھی جدید فوجی سازوسامان اور دفاعی معاونت شامل ہے۔

تینوں ممالک کے لیے منظور کیے گئے مجموعی دفاعی پیکیج کی مالیت تقریباً 2.27 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امریکی دفاعی شراکت داری کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

 ممکنہ علاقائی اثرات

تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ معاہدے صرف اسلحے کی فروخت تک محدود نہیں ہیں۔

یہ امریکا کی جانب سے اپنے علاقائی اتحادیوں کے دفاعی ڈھانچے کو مضبوط رکھنے کی کوشش بھی ظاہر کرتے ہیں۔

ڈرون ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے نسبتاً کم لاگت والے فضائی ہتھیاروں کو بڑا سیکیورٹی چیلنج بنا دیا ہے۔

editor

Related Articles