خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی صورتحال اور سیاسی کشیدگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے اجلاس طلب کرنے کے فیصلے نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ لانگ مارچ کے دوران اچانک کابینہ اجلاس طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ کیا لانگ مارچ جاری ہے یا صوبائی حکومت نے اپنی توجہ کسی دوسرے معاملے پر مرکوز کرلی ہے؟
افسران کی ملاقات
سہیل آفریدی کے کابینہ اجلاس طلب کرنے کا معاملہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کی گورنر سے ملاقات کے بعد بھی زیر بحث ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں اعلیٰ افسران نے گورنر سے ملاقات کی تھی۔
اس ملاقات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ کی اجازت سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ افسران کی گورنر سے ملاقات نے صوبائی حکومت کے اندر رابطوں کے معاملے کو نمایاں کر دیا ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعلیٰ کی جانب سے کابینہ کا اجلاس طلب کرنا سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اپیکس کمیٹی کیوں نہیں؟
ناقدین نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ سے ایک اہم سوال بھی کیا ہے۔
سوال اٹھایا گیا کہ دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے باوجود اپیکس کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟
اپیکس کمیٹی صوبے میں سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کے معاملات پر اہم فورم ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اس فورم کو فعال ہونا چاہیے تھا۔
تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اپیکس کمیٹی کے اجلاس نہ بلانے کی وجوہات پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
پانچ شہادتیں
صوبے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں نے بھی حکومت کی کارکردگی سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق گزشتہ روز ایک پولیس اہلکار اور کسٹمز کے چار افسران شہید ہوئے۔
ان کے مطابق پانچ اہلکاروں کی شہادت کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ ان کے جنازوں میں کون شریک ہوا؟
تنقید کرنے والوں نے وزیراعلیٰ کی موجودگی اور حکومتی ردعمل سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صوبے میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
لانگ مارچ پر سوال
سہیل آفریدی کی کابینہ کا اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا ہے جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ بھی جاری ہے۔
ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر لانگ مارچ جاری ہے تو وزیراعلیٰ نے اسی دوران کابینہ اجلاس کیوں طلب کیا؟
یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا لانگ مارچ کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے؟
دوسری جانب سوشل میڈیا پر لانگ مارچ میں شرکا کی تعداد اور اس کی پیش رفت پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
ناقدین کا دعویٰ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وزیراعلیٰ نے کابینہ اجلاس طلب کیا ہے۔
تاہم یہ دعویٰ ایک سیاسی مؤقف ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اصل سوالات
موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ کے ہنگامی اجلاس نے کئی سیاسی اور انتظامی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
کیا اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے؟
کیا اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے متعلق کوئی فیصلہ ہوگا؟
کیا چیف سیکرٹری اور آئی جی کی گورنر سے ملاقات کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا؟
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کابینہ اجلاس کے باوجود پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی آئندہ حکمت عملی کیا ہوگی؟
ان سوالات کا جواب کابینہ اجلاس کے بعد سامنے آنے والے فیصلوں سے مل سکے گا۔


