افغانستان کے اضلاع قندھار اور ہلمند میں طالبان مخالف مسلح تنظیم ’افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ‘ کی کارروائیوں میں طالبان کمانڈر عزت اللہ اور انٹیلی جنس اہلکار سمیت 2 اہلکار ہلاک جبکہ 2 زخمی ہو گئے۔ ان بڑھتے حملوں نے طالبان رجیم کے مؤثر سیکیورٹی اور کنٹرول کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
قندھار میں طالبان قیادت پر تابڑ توڑ حملے
افغانستان میں طالبان رجیم کے جابرانہ تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیم ’افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ‘ نے جنوبی افغانستان میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق قندھار کے ضلع ڈنڈ میں طالبان انتظامیہ کے خلاف ایک مؤثر کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں طالبان رجیم کے اہم کمانڈر عزت اللہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
اس کے علاوہ، قندھار کے ضلع ارغنداب میں کی گئی ایک اور ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران طالبان کے انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔
ہلمند میں جیل پر دستی بم حملہ
دوسری جانب، صوبہ ہلمند سے بھی طالبان سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ’افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ‘ کے جنگجوؤں نے ہلمند میں واقع جیل کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر دستی بم سے حملہ کیا۔
اس شدید کارروائی کے نتیجے میں طالبان رجیم کا 1 اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ 2 دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے، جنہیں علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
طالبان کے سیکیورٹی دعوؤں کا پس منظر
افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان طالبان کی جانب سے یہ دعویٰ بار بار دہرایا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے ملک بھر میں مکمل سیکیورٹی اور امن و امان قائم کر دیا ہے اور کسی بھی مخالف دھڑے کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مزید پڑھیں:دہشتگردی، کرپشن اور لانگ مارچز سے تنگ عوام نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ کردیا
تاہم قندھار اور ہلمند جیسے طالبان کے روایتی اور حکمت عملی کے لحاظ سے انتہائی اہم مراکزمیں یکے بعد دیگرے ہونے والے یہ حملے اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان کا ملک پر مؤثر کنٹرول اور امن کے دعوے حقیقت کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔
بڑھتی مسلح تحریکیں اور زمینی حقائق
افغانستان میں طالبان کے تسلط کے خلاف مسلح تحریکوں میں آنے والی یہ موجودہ تیزی اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ افغان عوام کا پیمانہٴ صبر اب مکمل طور پر لبریز ہو چکا ہے۔
طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور عوامی آزادیوں پر پابندیوں نے ملک میں شدید بے چینی پیدا کی ہے، جس کے نتیجے میں طالبان مخالف گروپس کی کارروائیوں کو عوامی ردِعمل کی تقویتی ڈھال مل رہی ہے۔
قندھار اور ہلمند کے واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر طالبان نے طاقت کے زور پر حکومت چلانے کا سلسلہ جاری رکھا تو آنے والے دنوں میں سیکیورٹی کا بحران مزید شدید ہو سکتا ہے، جو ان کے اقتدار کے وجود کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرے گا۔


