آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ میں لائن آف کنٹرول کے قریب گاؤں مہنڈلہ مدارپور میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے 4 نوجوان شہید ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق نوجوان چشمے کے پانی کی پائپ لائن کی مرمت کے لیے گئے تھے کہ اس دوران زور دار دھماکا ہوگیا۔ چاروں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
شہریوں کی ہلاکت کے اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہوگئی۔ اہل خانہ اور مقامی آبادی گہرے رنج و غم میں مبتلا ہیں۔
دھماکا کیسے ہوا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق چاروں نوجوان روزمرہ معمولات کے سلسلے میں گاؤں کے قریب چشمے پر گئے تھے۔ انہیں وہاں پانی کی پائپ لائن کی مرمت کرنا تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ چشمے کے قریب مبینہ طور پر بارودی مواد موجود تھا جو نوجوانوں کے پہنچنے پر پھٹ گیا۔
مقامی اطلاعات کے مطابق دھماکا اچانک ہوا جس کے باعث نوجوانوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ دھماکے کی شدت کے نتیجے میں چاروں نوجوان موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بارودی سرنگ بھارتی جانب سے بہہ کر پاکستانی علاقے میں آئی تھی۔ تاہم اس حوالے سے آزادانہ تصدیق اور دھماکے کی مکمل وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں۔
شہدا کی شناخت
واقعے میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی شناخت سردار فیضان صغیر، سردار اشتیاق، سردار عاصم رفیق اور سردار وقاص شریف کے ناموں سے ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی عمریں تقریباً 20 سے 30 سال کے درمیان تھیں۔
چار نوجوانوں کی اچانک شہادت سے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی افراد اس سانحے پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق چاروں نوجوان چیف ایڈیٹر کشمیر ایکسپریس اور آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر زاہد تبسم کے قریبی عزیز تھے۔ اس تعلق کے باعث واقعے نے صحافتی حلقوں میں بھی افسوس کی فضا پیدا کردی ہے۔
سرحدی علاقوں میں خطرات
لائن آف کنٹرول کے قریب واقع علاقوں میں بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز مواد شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں مقامی آبادی کے معمولات، مویشیوں کی نقل و حرکت اور پانی کے ذرائع تک رسائی کے دوران حادثات کا خدشہ رہتا ہے۔
مہنڈلہ مدارپور میں پیش آنے والے واقعے نے بھی سرحدی علاقوں میں شہریوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ چشمے اور پانی کی پائپ لائن کی مرمت جیسے معمول کے کام کے دوران چار نوجوانوں کی جانیں چلی گئیں۔
واقعے کے بعد بارودی مواد کی موجودگی اور اس کے علاقے میں پہنچنے کے حالات سے متعلق مزید معلومات اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں کسی سرکاری تحقیقات، انتظامی کارروائی یا حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
چار نوجوانوں کی شہادت نے مہنڈلہ مدارپور کے خاندانوں کو سوگوار کردیا ہے۔ علاقے کے رہائشیوں کے لیے یہ واقعہ ایک بڑا صدمہ ہے جبکہ سرحدی علاقوں میں بارودی مواد سے شہریوں کو لاحق خطرات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
