وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کو روکے۔
وزارت نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق ٹھوس شواہد کا جواب دیا جائے اور محض بیان بازی کے ذریعے توجہ ہٹانے کی کوشش نہ کی جائے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملے افغان طالبان حکومت کی ناکامی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
وزارت نے واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال روکنے کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ وزارت کے مطابق رپورٹ میں افغانستان میں کالعدم تنظیم کے 6 ہزار کارندوں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کی حمایت کا ذکر موجود ہے۔ وزارت اطلاعات نے ان نکات کو افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خطرے سے متعلق اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کیا۔
وزارت نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے سے انکار کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ بیان کے مطابق دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور نیٹ ورکس کے خلاف ایسی کارروائیاں ضروری ہیں جن کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوسکے۔
مذاکرات اور انسداد دہشت گردی
وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم بامعنی پیش رفت کے لیے افغان طالبان حکومت کو انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر محض بیانات کافی نہیں ہیں۔ وزارت کے مطابق افغان طالبان حکومت کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کی روک تھام کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں دہشت گردی کا معاملہ اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔ وزارت اطلاعات نے بھی اپنے بیان میں اسی مؤقف کو دہرایا۔
انسانی حقوق پر بھی تنقید
وزارت اطلاعات نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تنقید کی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات طالبان حکومت کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
وزارت نے دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات اور انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ تاہم بیان میں افغان طالبان حکومت کی جانب سے اس تازہ مؤقف پر کسی ردعمل کا ذکر نہیں کیا گیا۔
وزارت اطلاعات نے آخر میں واضح کیا کہ پاکستان مذاکرات کے راستے پر قائم ہے لیکن شہریوں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بیان کے مطابق پاکستان اپنے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔