بجلی صارفین کے لیے نیا جھٹکا، حکومت کا اربوں روپے اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ

بجلی صارفین کے لیے نیا جھٹکا، حکومت کا اربوں روپے اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے بجلی کے صارفین سے اربوں روپے کی اضافی رقم وصول کرنے کی تیاری کر لی ہے ،  جس کے تحت لیسکو سمیت ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین سے 3 ارب 55 کروڑ روپے وصول کرنے کی درخواست نیپرا میں دائر کر دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ  کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مختلف خدمات اور انتظامی اخراجات کی مد میں رقم حاصل کرنے کے لیے درخواست جمع کرائی ہے۔

نیپرا نے درخواست منظور کرتے ہوئے اس معاملے پر سماعت مقرر کر دی ہے، جس میں اضافی وصولیوں کی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔

سی پی پی اے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور پاور پلانٹس کے درمیان بطور خصوصی ایجنٹ کام کرتی ہے ،  ادارے کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں دفتری امور، آپریشنز، انتظامی خدمات اور دیگر متعلقہ اخراجات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : گیس اور بجلی کے سلیب ختم کرنے کی تیاری، کن صارفین پر اثر پڑسکتا ہے ؟

درخواست کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے مینٹیننس، ٹیکسوں اور دیگر امور کے لیے بھی رقم طلب کی ہے ، نیپرا کی جانب سے درخواست کی منظوری ملنے کی صورت میں یہ رقم ٹیرف کے ذریعے وصول کی جائے گی، جس کا اثر بجلی صارفین کے بلوں پر پڑ سکتا ہے۔

اس معاملے میں نیپرا کی سماعت اور فیصلے کو اہمیت حاصل ہے، کیونکہ درخواست منظور ہونے کے بعد اضافی رقم کی وصولی کا طریقہ کار واضح ہوگا تاہم فی الحال درخواست دائر کیے جانے اور سماعت مقرر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اضافی وصولیوں کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے۔

عوام کے لیے اہم بات یہ ہے کہ بجلی کے بل پہلے ہی گھریلو اور کاروباری صارفین کے لیے بڑا خرچ بن چکے ہیں ایسے میں 3 ارب 55 کروڑ روپے کی مجوزہ وصولی سے متعلق نیپرا کا حتمی فیصلہ اہم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : بجلی کم استعمال کرنے کے باوجود بل زیادہ کیوں آتا ہے؟ وجہ جانیے

صارفین کو یہ جاننے کے لیے سماعت کے نتائج کا انتظار کرنا ہوگا کہ آیا اس رقم کی منظوری دی جاتی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا بلوں پر کیا اثر پڑے گا۔

editor

Related Articles