’پی ٹی آئی کے کالعدم ’ٹی ٹی پی‘ کے ساتھ روابط تھے، دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں‘ وفاقی وزرا کی فارن میڈیا کو تفصیلی بریفنگ
Home - اہم خبریں - ’پی ٹی آئی کے کالعدم ’ٹی ٹی پی‘ کے ساتھ روابط تھے، دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں‘ وفاقی وزرا کی فارن میڈیا کو تفصیلی بریفنگ
وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ رابطے تھے جن کے شواہد جلد منظر عام پر لائے جائیں گے، جبکہ کے پی میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے پیش نظر آئینی طریقے سے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں دو پالیسیاں نہیں چل سکتیں۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے فارن میڈیا کے نمائندوں کو مشترکہ بریفنگ دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تحریک انصاف کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ گہرے رابطے رہے ہیں، اور اس حوالے سے تمام دستاویزی شواہد بہت جلد عوام اور عالمی برادری کے سامنے لائے جائیں گے۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک ملک کے اندر 2 مختلف اور متضاد پالیسیاں ہرگز نہیں چل سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کبھی بھی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور سیاسی مطالبات کی مخالفت نہیں کی، لیکن سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے امن اور پالیسی سے متعلق طے شدہ تمام اتفاق رائے کو یکسر مسترد کر دیا۔ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور حکومتی رِٹ کے خاتمے نے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے کیونکہ جب پورا صوبہ دہشتگردی کی لپیٹ میں تھا، تب صوبائی حکومت اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھی۔
دہشتگردی کے اعداد و شمار اور بڑھتی ہوئی لہر
وزراء نے بریفنگ کے دوران اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دہشتگردی کا یہ مسئلہ حالیہ دنوں کا نہیں بلکہ اس کی جڑیں 1970 کی دہائی کے اواخر میں افغانستان پر روسی جارحیت کے دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
صورتحال کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے گزشتہ 6 برسوں کو دو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے ریکارڈ کیے گئے واقعات کی مجموعی تعداد تقریباً 2900 رہی، جبکہ 2024 سے 2026 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8600 ہو گئی۔
جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان پُرتشدد واقعات میں 195 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ وزیر قانون نے بتایا کہ پاکستان ایک وفاق ہے جہاں اختیارات کی تقسیم اور آئینی دائرہ اختیار واضح ہے، لیکن جب داخلی بدامنی ایک خطرناک حد سے بڑھ جائے تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو قومی مفاد میں مشترکہ لائحہ عملن اپنانا پڑتا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی اور سیکیورٹی فورسز پر حملے
اعظم نذیر تارڑ نے انکشاف کیا کہ ماضی میں ایسے واقعات بھی پیش آئے جب خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اپنے تمام سرکاری وسائل اور مشینری کا استعمال کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، اس کے باوجود اس وقت ایسا کوئی سخت اقدام زیرِ غور نہیں لایا گیا۔
لیکن حالیہ دنوں میں جب دہشتگردی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا، خیبر پختونخوا پولیس حملوں کی زد میں آئی، وہاں تعینات مسلح افواج اور وفاقی اداروں کے اہلکاروں بالخصوص کسٹمز حکام کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک خودکش حملے کے دوران کسٹمز کے 9 اہلکار شہید ہو گئےتو ریاست کے لیے خاموش رہنا ناممکن ہو گیا۔
اس کے علاوہ علمائے کرام اور بے گناہ شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام رپورٹس کے موصول ہونے کے بعد وزارت داخلہ اور دیگر فریقوں نے صوبائی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے، کمیٹیاں تشکیل دیں اور تمام سیاسی و مذاکراتی راستے آزمائے، لیکن انا یا ذاتی سیاسی ترجیحات کی وجہ سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔
آئینی راستے کا انتخاب اور آرٹیکل 232 و 234 کا نفاذ
وزرا نے آئینی عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے موصول ہونے والے خط اور تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم نے یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا۔
وفاقی کابینہ نے بغیر کسی اختلاف کے اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا کہ صوبے کے عوام کے تحفظ اور وفاق کو مضبوط بنانے کے لیے آئینی راستے اختیار کیے جائیں۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صدر پاکستان نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد اعلانِ ایمرجنسی جاری کیا۔ اس آئینی نظام کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت اپنے منصب پر برقرار نہیں رہی، اور وزیراعلیٰ سمیت دیگر عہدیداران کے اختیارات بھی ختم ہو چکے ہیں۔
وفاقی حکومت نے اپنے مزید اختیارات گورنر کو تفویض کر دیے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے تاکہ صوبے کے امور احسن طریقے سے چلائے جا سکیں۔
یہ آئینی اقدام پاکستان میں پہلی بار نہیں اٹھایا گیا، تاہم اس کی آئینی منظوری پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے حاصل کرنا قانونی طور پر لازمی ہے۔