خیبر پختونخوا میں 13 سال کی بربادی دیکھی،پی ٹی آئی نے دہشتگردی کیخلاف تعاون نہیں کیا،اسحاق ڈار

خیبر پختونخوا میں 13 سال کی بربادی دیکھی،پی ٹی آئی نے دہشتگردی کیخلاف تعاون نہیں کیا،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال میں سیاسی مفاہمت کی گنجائش ختم ہوچکی ہے اور حکومت نے صوبے کے مفاد میں بھاری دل کے ساتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دور میں دہشت گردی کے واقعات دگنے ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی مفاہمت کے سب سے بڑے حامی ہیں اور حکومت نے اس راستے پر چلنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن معاملات اب مفاہمت سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔

800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے دیے جاچکے ہیں، تاہم صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ قائم نہیں کیا جاسکا۔ ان کے مطابق صوبے میں فرانزک لیبارٹری اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) بھی قائم نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبے کو ایک فیصد اضافی حصہ اب بھی مل رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے بلوچستان حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔

کابینہ میں کیا بات ہوئی؟

نائب وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے اپنی تجویز پیش کی تو کابینہ ارکان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی اور سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے۔ ان کے بقول ارکان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کبھی سندھ اور کبھی پنجاب میں ہوتے ہیں، جبکہ صوبے نے گزشتہ 13 برس میں تباہی دیکھی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ کابینہ نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد سیاسی مفاہمت ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ کو عہدہ تبدیل کرنے، دہشت گردی کی مذمت کرنے اور وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا۔

ایمرجنسی کا فیصلہ کیوں کیا؟

اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے بہت بھاری دل کے ساتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس اقدام کا مقصد صوبے کے مفاد کا تحفظ تھا۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کی سمری کابینہ کے تمام ارکان نے پڑھی اور فیصلہ آئینی تقاضوں کے مطابق کیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردی کی مذمت کب کی؟ ان کا کہنا تھا کہ وفاق نے وزیراعلیٰ سے دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے اور مشترکہ طور پر کارروائی کرنے کا کہا، جبکہ متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی کے معاملے پر بھی جواب طلب کیا گیا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

چھ ماہ بعد اسمبلی بحال ہونے کا امکان

نائب وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے پیشہ ور افراد کو ذمہ داریاں سونپی ہیں اور وفاق ایڈوائزری بورڈ کی مکمل معاونت کرے گا۔ ان کے مطابق چھ ماہ بعد صوبائی اسمبلی بحال ہوسکتی ہے، جبکہ معاملات معمول پر لانے میں ڈیڑھ سال تک لگ سکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقریر اور طرزِ عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ وزیراعلیٰ کے منصب کے مطابق نہیں تھا اور ان کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ملک میں آگ لگانا چاہتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام معاملات کا جائزہ لے گی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

editor

Related Articles