چین اور سعودی عرب کے مشترکہ توانائی منصوبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ مشترکہ کمپنی ہواجِن آرامکو پیٹروکیمیکل کو چین میں قائم ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے لیے سعودی خام تیل کی پہلی کھیپ موصول ہوگئی ہے۔
یہ پیش رفت منصوبے کو باقاعدہ پیداوار کے مرحلے تک پہنچانے کی تیاریوں میں اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ منصوبے کے تحت خام تیل صاف کرنے کے ساتھ اعلیٰ قدر والی کیمیائی مصنوعات بھی تیار کی جائیں گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپنی نے اپنے بیان میں بتایا کہ یہ صنعتی کمپلیکس چین کے صوبے لیاؤننگ کے شہر پینجن میں واقع ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت پیداوار شروع کرنے سے پہلے تیاری کے مرحلے میں ہے۔
پیداواری صلاحیت
پینجن میں قائم اس کمپلیکس میں روزانہ 3 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ریفائنری شامل ہے۔ اس کے ساتھ ایک بڑا کیمیائی پلانٹ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق کیمیائی پلانٹ سالانہ 16 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن ایتھیلین تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سالانہ 20 لاکھ ٹن پیرا زائلین بھی تیار کیا جا سکے گا۔
ایتھیلین پلاسٹک اور متعدد صنعتی مصنوعات کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ پیرا زائلین بھی ٹیکسٹائل، پیکیجنگ اور دیگر صنعتوں کے لیے اہم کیمیائی مادہ ہے۔
ان مصنوعات کی تیاری سے منصوبے میں صرف ایندھن کی پیداوار تک محدود رہنے کے بجائے مختلف صنعتی شعبوں کے لیے خام مال فراہم کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ اس طرح ریفائنری اور پیٹروکیمیکل صنعتوں کو ایک ہی صنعتی کمپلیکس میں مربوط کیا جائے گا۔
آغاز میں تاخیر
رائٹرز کے مطابق منصوبے کو ابتدا میں مئی یا جون میں شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ بعد میں اس کی شروعات ستمبر یا اکتوبر کے اوائل تک مؤخر کردی گئی۔
سعودی خام تیل کی پہلی کھیپ کی آمد منصوبے کی تیاریوں میں پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم صرف خام تیل پہنچنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ریفائنری نے تجارتی بنیادوں پر پیداوار شروع کردی ہے۔
منصوبے کے باقاعدہ آغاز کے لیے ضروری تیاریوں اور آزمائشی مراحل کی تکمیل اہم ہوگی۔ فراہم کردہ خبر میں تجارتی پیداوار شروع ہونے کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
خام تیل کی ترسیل
رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ چین کی سرکاری کمپنی ژنہوا آئل نے اگست میں سعودی عرب سے 20 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل بک کروائی تھی۔
اس ترسیل کا مقصد مشترکہ ریفائنری منصوبے کو خام تیل فراہم کرنا تھا۔ اب پہلی کھیپ موصول ہونے سے منصوبے کے لیے خام مال کی فراہمی کا مرحلہ آگے بڑھا ہے۔
سعودی عرب دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ چین بھی خام تیل کے بڑے درآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون صنعتی پیداوار اور تیل کی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔
صنعتی اہمیت
پینجن شِنچینگ کے چیئرمین جیا فئی کے مطابق یہ منصوبہ زیادہ قدر والی پیٹروکیمیکل مصنوعات اور خصوصی کیمیکلز کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے تیل صاف کرنے اور کیمیائی صنعتوں کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے اسے پینجن کو پیٹروکیمیکل اور خصوصی کیمیکلز کی صنعت کے نمایاں قومی مرکز میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
اس منصوبے میں ریفائننگ اور کیمیائی پیداوار کو یکجا کرنے سے صنعتی خام مال کی فراہمی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے مختلف صنعتوں کو درکار کیمیائی مصنوعات ایک مربوط پیداواری نظام کے تحت تیار کی جا سکیں گی۔
چین سعودی تعاون
چین اور سعودی عرب کے درمیان یہ مشترکہ منصوبہ توانائی اور صنعت کے شعبوں میں تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔ اس کا مقصد سعودی خام تیل کو چین میں پراسیس کرکے ایندھن اور مختلف کیمیائی مصنوعات تیار کرنا ہے۔
منصوبے کی پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی تجارت کو صنعتی سرمایہ کاری سے جوڑتی ہے۔ خام تیل کی پہلی کھیپ پہنچنے کے بعد اب توجہ پیداواری تیاریوں کی تکمیل اور کمپلیکس کے عملی آغاز پر ہوگی۔
ریفائنری کی روزانہ 3 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت اور کیمیائی پلانٹ کی بڑی پیداواری گنجائش اس منصوبے کے حجم کو نمایاں کرتی ہے۔ تاہم اس کی حقیقی صنعتی اہمیت کا اندازہ باقاعدہ پیداوار شروع ہونے اور پیداواری صلاحیت کے استعمال سے ہوگا۔
