ملک میں گندم کے بیج کی کتنی کمی ہے؟ سرکاری اعداد و شمارجاری

ملک میں گندم کے بیج کی کتنی کمی ہے؟ سرکاری اعداد و شمارجاری

پاکستان میں ربیع سیزن 2026 اور 2027 کے لیے گندم کے بیج کی دستیابی کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ ملک کی مجموعی ضرورت کا صرف 51 فیصد بیج دستیاب ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے نجی بیج کمپنیوں سے قیمتیں کم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کسانوں کو بروقت اور سستے داموں بیج مل سکے۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نجی بیج کمپنیوں اور نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے اجلاس میں بیج کی قیمتوں اور صوبوں کے درمیان ترسیل کے امور پر غور کیا گیا۔

وزیر نے کہا کہ تصدیق شدہ گندم کے بیج کا محدود استعمال ملکی گندم کی پیداوار کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی، زیادہ پیداوار دینے والی اور بیماریوں سے محفوظ اقسام کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے کسانوں کے لیے بیج کی مناسب قیمت اور بروقت دستیابی ضروری ہے، کیونکہ کھاد، آبپاشی اور دیگر زرعی اخراجات بھی ان پر مالی دباؤ بڑھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گندم مہنگی ہوتے ہی آٹا بھی بے قابو، فی کلو قیمت میں 20 روپے تک اضافہ

سرکاری دستاویز کے مطابق ربیع سیزن 2026 اور 2027 کے لیے ملک میں مجموعی طور پر تقریباً 6 لاکھ 11 ہزار 793 ٹن گندم کا بیج دستیاب ہے، جبکہ ضرورت تقریباً 11 لاکھ 91 ہزار 555 ٹن ہے۔

صوبوں میں پنجاب کے پاس تقریباً 5 لاکھ 53 ہزار ٹن بیج موجود ہے، جو اس کی ضرورت کا 67 فیصد ہے۔ سندھ میں دستیاب بیج ضرورت کا 23 فیصد، خیبر پختونخوا میں 7 فیصد اور بلوچستان میں 13 فیصد ہے۔ حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ صوبوں کے درمیان بیج کی ترسیل میں رکاوٹیں دور کی جائیں تاکہ کسان گندم کی بوائی مقررہ وقت پر کرسکیں۔

editor

Related Articles