پشاور کے ایک نجی اسکول میں چھت گرنے کے افسوسناک سانحے کے بعد معصوم بچوں کی ہلاکتوں نے ملک بھر میں غم و غصے کی فضا پیدا کردی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر’بچوں کے خون کا حساب دو‘ کے نعرے کے ساتھ ذمہ داروں کے احتساب اور تعلیمی اداروں کی حفاظت یقینی بنانے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔
پشاور میں کیا ہوا؟
جمعرات 15 اکتوبر کو پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی اسکول الخیر کی عمارت کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو 1122، پولیس اور مقامی افراد نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 28 بچے اور 2خاتون ٹیچر شامل ہیں، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ امدادی کارروائیوں اور ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق صورتحال مسلسل اپ ڈیٹ ہوتی رہی ہے۔
اسکول کی عمارت پر سوالات اٹھنے لگے
ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت کی ساخت کمزور ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کررہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسکول کے مالک کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، حادثے کی حتمی وجہ اور قانونی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔
’’بچوں کے خون کا حساب دو‘‘، سوشل میڈیا پر احتساب کا مطالبہ
اس سانحے کے بعد ’’بچوں کے خون کا حساب دو‘‘ کا نعرہ اس مطالبے کی عکاسی کرتا ہے کہ بچوں کی جانوں کے ضیاع کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مضبوطی، طلبہ کی گنجائش، تعمیراتی معیار اور حفاظتی انتظامات کی جانچ پڑتال کی ضرورت کو نمایاں کردیا ہے۔
پشاور اسکول سانحہ، ذمہ دار کون؟
پشاور اسکول سانحہ، ذمہ دار کون؟پی ٹی آئی کے دور حکمرانی میں تعلیمی اداروں کی نگرانی پر بھی سوالات اٹھنے لگےخیبر پختونخوا میں طویل عرصے تک پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے۔ ایسے میں صوبے کے تعلیمی نظام، نجی اسکولوں کی رجسٹریشن، عمارتوں کی حفاظت اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کے حوالے سے حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اگر کسی تعلیمی ادارے کی عمارت حفاظتی معیار پر پوری نہیں اترتی تھی تو سوال یہ ہے کہ متعلقہ حکام نے اس کا معائنہ کیا تھا یا نہیں .ان سوالات کے جواب صرف سیاسی بیانات سے نہیں، بلکہ سرکاری ریکارڈ اور شفاف تحقیقات سے سامنے آنے چاہییں۔