سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتی ذرائع سے باآسانی حل کیا جا سکتا تھا، مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگی راستہ چنا، جس کا خمیازہ اب امریکی معیشت اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
امریکی میڈیا اور خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق باراک اوباما نے ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس کے پالیسی فیصلوں پر سخت سوالات اٹھائے۔
“ایسی جنگ چھیڑی گئی جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا”
سابق صدر نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ انتظامیہ نے غلط فیصلوں سے معاملات کو الجھایا ہے کا کہنا تھا کہ ایک ایسی جنگ کی شروعات کی گئی جس کی کوئی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا تھا۔
اوباما نے ٹرمپ انتظامیہ کے کامیابی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ کئی ماہ گزر جانے کے باوجود امریکی فوجی اڈوں اور اتحادیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس صورتحال میں نہ صرف امریکی فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئی اور سینکڑوں زخمی ہوئے، بلکہ امریکی میزائلوں کا ذخیرہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز کا بحران اور عام آدمی پر معاشی بوجھ
سابق امریکی صدر نے خبردار کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کے راستے عالمی جہاز رانی کی نقل و حرکت متاثر کرنے کا موقع مل گیا ہے، جسے وہ معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے , اس تناؤ کی براہِ راست قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں، کیونکہ تیل اور ڈیزل مہنگا ہونے سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔
باراک اوباما کی جانب سے یہ تنقید 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات سے ٹھیک پہلے سامنے آئی ہے، جہاں وہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کی مہم کو متحرک کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔