امریکا ایران کے خلاف بڑے حملے کی تیاریاں کررہا ہے ، امریکی جریدے کا دعویٰ

امریکا ایران کے خلاف بڑے حملے کی تیاریاں  کررہا ہے ، امریکی جریدے کا دعویٰ

امریکی جریدے کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی مسلح افواج کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کی سپلائی فراہم کی گئی ہے، جبکہ ایسے ہتھیار بھی جہاز پر لادے جانے کی اطلاعات ہیں جو ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات اور مضبوط فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بیان کردہ اطلاعات کے مطابق، امریکی فوجی سرگرمیاں خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ زیرِ زمین جوہری تنصیبات اور مضبوط فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیار کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیے جانے کی صورت میں امریکی بحریہ کے پاس حملوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اضافی ہتھیار اور فوجی سازوسامان موجود ہوگا۔ امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی جنگی جہاز ممکنہ طور پر لڑائی میں شدت آنے کی صورت میں اپنی کارروائیوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :امریکہ اور اسرائیل  کی دھمکیاں،ایران  نے اقوام متحدہ سے بڑا مطالبہ کر دیا

رپورٹ میں خاص طور پر ایسے بنکر بسٹر بموں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا ذکر کیا گیا ہے جو مضبوط زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بنکر بسٹر بموں کو اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے کہ وہ زمین کے اندر یا مضبوط حفاظتی حصار میں موجود اہداف تک پہنچ کر انہیں نقصان پہنچا سکیں۔ ایسے ہتھیاروں کی موجودگی ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات اور دیگر محفوظ فوجی مراکز کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز پر جنگی طیاروں کی پروازوں اور اسلحے کی دوبارہ فراہمی کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق، افواج کو مختلف ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا جا رہا ہے، تاہم ان تیاریوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایران پر نئے حملوں کا حتمی حکم جاری ہو چکا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کا مؤقف ہے کہ اس کی ذمہ داری صدر کو فوجی کارروائی کے ممکنہ راستوں اور دستیاب آپشنز سے آگاہ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی منصوبہ بندی اور ہتھیاروں کی فراہمی کسی ممکنہ کارروائی کے لیے تیاری کا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن حتمی فیصلہ سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔

ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کے امکانات نے خطے میں کشیدگی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اگر امریکا نے حملوں کا فیصلہ کیا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود رہنے کے بجائے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، تیل کی ترسیل اور عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles