پی ٹی آئی اور افغان سوشل میڈیاہینڈلز کی طرف سے سوشل میڈیا پر علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے وائس چیئرمین ملک خان مرجان وزیر کے افغان ڈائریز کو دیے گئے انٹرویو کے بعض حصوں کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کونسل نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، حافظ گل بہادر گروپ یا افغان طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی باضابطہ پالیسی اختیار کی ہے۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق ملک خان مرجان وزیر نے انٹرویو میں افغانستان اور روایتی قبائلی جرگہ نظام سے متعلق اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا تھا اور کسی صورت ان کے انفرادی خیالات کو کونسل کا سرکاری مؤقف نہیں قرار دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں :شمالی وزیرستان سردی خیل میں شہریوں کے اغوا کا بھارتی پراکسی ہینڈلرز کا جھوٹا پروپیگنڈا بھی ناکام گیا، آزاد فیکٹ چیک نے تمام جھوٹے دعوے خاک میں ملا دیے
وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کا دائرۂ کار مقامی مسائل کے حل، امن و امان کے سلسلے میں انتظامی معاونت اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی تک محدود ہےاس لیے کسی عہدیدار کے نجی انٹرویو کو کونسل کی باضابطہ پالیسی قرار دینے کے لیے متعلقہ سرکاری دستاویز یا کونسل کا باضابطہ اعلامیہ درکار ہوگا۔
فیک نیوز الرٹ 🚨 🚨
پی ٹی آئی اور افغان بیانیے سے وابستہ پروپیگنڈا سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے ایک زیرِ گردش ٹویٹ کے ذریعے گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے، جس میں علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے وائس چیئرمین ملک خان مرجان وزیر کے افغان ڈائریز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے چند جملوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے کونسل کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی، حافظ گل بہادر اور افغان طالبان سے مذاکرات کا کوئی باضابطہ پالیسی بیان جاری کیا گیا ہو۔
یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹ اور بے بنیاد پراپیگنڈے پر مبنی ہے:
علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے وائس چیئرمین ملک خان مرجان وزیر نے ایک نجی انٹرویو میں افغانستان اور روایتی قبائلی جرگہ سسٹم کے حوالے سے اپنی ذاتی آراء اور اس مسئلے کے حل سے متعلق اپنی ذاتی سمجھ بوجھ کا اظہار کیا تھا جو ان کا ذاتی اور جمہوری حق ہے۔ تاہم پی ٹی آئی اور افغان پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے ان کے انٹرویو کے چند جملوں کو انتہائی مکارانہ انداز میں سیاق و سباق سے کاٹ کر اور توڑ مروڑ کر اس طرح پھیلایا ہے جیسے یہ ریاست یا کونسل کا کوئی سرکاری پالیسی بیان ہو، جو سراسر مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے 17 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے قائم کی گئی 48 رکنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کا دائرہ کار خالصتاً مقامی عوامی مسائل کے حل، امن و امان میں انتظامی معاونت اور 160 ارب روپے کے تاریخی ترقیاتی پیکج کی شفاف نگرانی تک محدود ہے۔ نہ تو اس کونسل کا خارجہ یا نیشنل سیکیورٹی پالیسی سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ریاستِ پاکستان کی اس دوٹوک پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے کہ معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے قاتل فتنہ الخوارج یا حافظ گل بہادر گروپ سمیت کسی بھی دہشت گرد ٹولے سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور افغان لابی کے یہ پروپیگنڈا اکاؤنٹس، جو اب زیادہ تر بے روزگار ہیں اور اپنی قیادت و رہنماؤں سے محروم ہو چکے ہیں، سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز میں فتنہ الخوارج کے گرد تنگ ہوتے گھیراؤ سے بوکھلا کر اپنے منظورِ نظر دہشت گردوں کو مذاکرات کے نام پر ریلیف دلوانے کے لیے کسی فرد کی ذاتی رائے کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے رہے ہیں، کیونکہ حقائق کو مسخ کر کے جھوٹ پھیلانے کے سوا اب ان عناصر کے پاس کچھ باقی نہیں بچا ہے۔— Azaad Fact Check (@azaadfactcheck) October 24, 2026


