وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ لاہور سے راولپنڈی تک نئی موٹروے تعمیر کی جائے گی، جس سے سفری فاصلہ 380 کلومیٹر سے کم ہو کر 280 کلومیٹر رہ جائے گا۔ منصوبہ 2027 کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد لاہور سے اسلام آباد کا سفر ساڑھے تین گھنٹے کے بجائے ڈھائی گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہوگا۔
عبدالعلیم خان کے مطابق نئی موٹروے پنجاب کے اہم شہروں گوجرانوالہ، گجرات، لالہ موسیٰ، کھاریاں اور جہلم کو آپس میں ملائے گی۔ اس منصوبے سے ان شہروں کے درمیان آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی اور مسافروں کے وقت اور ایندھن کی بچت بھی متوقع ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سیالکوٹ موٹروے کو چار لین سے بڑھا کر چھ لین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے منصوبے پر مزید 10 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے تاکہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکھر موٹروے کا سنگ بنیاد آئندہ ماہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ منصوبے کے تین سیکشنز کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ منصوبے کے تحت سکھر سے حیدرآباد تک موٹروے تعمیر کرنے کا بھی ارادہ ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات کے مطابق موٹروے کے ان منصوبوں سے اہم شہروں کے درمیان رابطے بہتر بنانے، سفر کا دورانیہ کم کرنے اور تجارتی و ٹرانسپورٹ سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔