وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان کی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کی عبوری حکومت جنگ اور تصادم پر مبنی سوچ سے نکل کر عوامی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے،افغانستان میں اس وقت تک پائیدار ترقی ممکن نہیں جب تک حکومت تعلیم، صحت، تجارت اور خواتین کی معاشی خودمختاری جیسے شعبوں پر توجہ نہیں دیتی۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ افغان معاشرے میں خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں افرادی قوت کا حصہ بنانا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، خواتین کی تعلیم اور روزگار تک رسائی محدود رکھنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانے سے افغانستان کی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ افغانستان کو جنگی معیشت اور تصادم کی سیاست سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسی سوچ ملک کو ترقی کے بجائے تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ افغان عوام میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں شہریوں کو ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔
عطا اللہ تارڑ نے افغانستان میں سماجی پابندیوں اور لباس سے متعلق ضوابط پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کابل میں برطانوی ڈرامے ’پیکی بلائنڈرز‘ سے مشابہ لباس، خصوصاً ٹرینچ کوٹ اور فلیٹ کیپس پہننے والے مردوں کی گرفتاری سے متعلق سامنے آنے والی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب معاشرے میں خواتین اور مردوں کی ذاتی آزادیوں پر اس نوعیت کی پابندیاں ہوں تو ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے علاقائی تجارت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک مختصر تجارتی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، جو خطے کے لیے معاشی طور پر اہم ثابت ہو سکتی ہے،اس مقصد کے حصول کے لیے افغان عبوری حکومت کو تجارت کے فروغ اور عوامی ترقی کے حوالے سے واضح اور مثبت فیصلے کرنا ہوں گے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کو اپنی بندرگاہوں اور چین کے ساتھ موجود تجارتی راستوں کی بدولت علاقائی تجارت کے لیے اہم جغرافیائی سہولت حاصل ہے،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لیے بھی مواقع موجود ہیں لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کا انحصار اس بات پر ہے کہ افغان حکومت اپنے عوام کی ضروریات اور امنگوں کو ترجیح دیتے ہوئے معاشی تعاون اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کا فیصلہ کرتی ہے یا نہیں۔