خیبر پختونخوا میں دہائی سے زائد عرصے تک حکمرانی کرنے والی پی ٹی آئی حکومت کے بلند و بانگ دعوے زمین بوس ہوچکے، پچھلے 13 سالوں سے فنڈز کی عدم دستیابی، انتظامی غفلت اور عدم توجہی کا شکار مردان کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال بالآخر نئے سیٹ اپ کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
مردان کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال کی نوزائیدہ بلڈنگ جو پچھلے 13 سالوں سے فنڈز کی عدم دستیابی اور انتظامی التوا کا شکار تھی، بالآخر اس کے اچھے دن آ گئے ، نئے کونسل کے قیام کے بعد مردان کی ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہے۔
نئے کونسل کے قیام اور فنڈز کی دستیابی کے ساتھ ہی ہسپتال کی ادھوری عمارت کو مکمل کرنے کے لیے 40 کروڑ روپے کا خطیر فنڈ منظور کر لیا گیا ہے، جس سے عرصے سے لٹکا ہوا یہ اہم عوامی منصوبہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو جائے گا۔
کمشنر اور ڈپٹی کمشنر مردان ڈویژن کے دورے اور سخت ہدایات
کمشنر اور ڈپٹی کمشنر مردان ڈویژن نے ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان کا دو مرتبہ دورہ کیا ہے اور تعمیراتی کام کی رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ادھورے کاموں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
انہوں نے تاکید کی ہے کہ تعمیراتی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ جلد از جلد مکمل کر کے عمارت باقاعدہ طور پر ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کی جائے تاکہ علاقے کے عوام کو سہولت مل سکے ۔
ہسپتال میں صفائی ستھرائی، رنگ روغن اور ادویات کی فراہمی
انتظامی اصلاحات کے تحت ہسپتال میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنا دیا گیا ہے، ہسپتال کو مکمل طور پر صاف اور واش کر دیا گیا ہے، اور وہاں رنگ روغن کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں مریضوں کے لیے ادویات کی فراہمی کو بھی یقینی بنا دیا گیا ہے، اس موقع پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ (ایم ایس) کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی نوزائیدہ عمارت کا 13 سالوں سے التوا میں رہنا ایک بڑا چیلنج تھا، مگر اب 40 کروڑ روپے کے فنڈز سے کام تیزی سے آگے بڑھے گا۔
ایم ایس نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مریض ہماری پہلی ترجیح ہیں اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، مریضوں کو ہر ممکن ریلیف اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی ، ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو بلا تعطل اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی جاری رکھی جائے۔
مردان اور گردونواح کے عوام کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی بلڈنگ کا مکمل ہونا ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوگا ، 13 سال سے معطل رہنے والے اس منصوبے کی بحالی سے ہسپتال میں بیڈز کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور جدید طبی آلات و شعبہ جات کے قائم ہونے سے ہزاروں مریضوں کو علاج معالجے کے لیے دور دراز شہروں کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے۔
پی ٹی آئی کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کے دور کا خاتمہ
عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے ایک دہائی سے زائد دورِ اقتدار میں کے پی کے عوام کو صرف دھرنوں، سیاسی محاذ آرائی اور منفی بیانیے میں الجھائے رکھا اور صحت جیسے بنیادی اور حساس شعبے میں مردان کا سب سے اہم ہسپتال 13 سال تک لاوارث پڑا رہا، موجودہ نئے سیٹ اپ نے اقتدار سنبھالتے ہی پی ٹی آئی کی اس ناکامی کا مداوا کرتے ہوئے عمارت کی جلد تکمیل اور بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔