سوشل میڈیا پر ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں ڈسٹرکٹ پریس کلب کے اندر نقاب پوش مسلح افراد کے پولیس وردیوں میں داخل ہونے اور مختلف حصوں کی تلاشی لینے سے متعلق گردش کرنے والی خبر کو آزاد فیکٹ چیک کے مطابق جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔ اس خبر کے ذریعے عوام میں بے چینی پھیلانے اور انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پولیس کی وردیاں پہنے نقاب پوش مسلح افراد اجازت کے بغیر ڈسٹرکٹ پریس کلب میں داخل ہوئے اور وہاں مختلف حصوں کی تلاشی لی۔ تاہم، اس دعوے کی تائید میں کوئی ایسا قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے اس واقعے کو حقیقت قرار دیا جا سکے۔
آزادانہ فیکٹ چیک کے مطابق، لنڈی کوتل پریس کلب میں پولیس وردیوں میں مسلح افراد کے داخلے اور تلاشی لینے کا دعویٰ درست ثابت نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا پر ایسی غیر مصدقہ اور من گھڑت خبریں پھیلانا عوام کو گمراہ کرنے، خوف و ہراس پیدا کرنے اور حقائق کے برعکس صورتِ حال پیش کرنے کا باعث بنتا ہے۔
عوام سے اپیل ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کریں اور ایسی پوسٹس کو آگے پھیلانے سے گریز کریں جو حقائق کے بجائے بے بنیاد دعوؤں پر مبنی ہوں۔ کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچنا ضروری ہے تاکہ غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی روک تھام کی جا سکے۔
Journalists in #Khyber tribal district say masked armed men wearing police uniforms stormed the District Press Club Khyber Landi Kotal @SamarHBilour @MehmoodJan1 @KP_Police1
According to the journalists and the staff member, the masked men were local police personnel who entered the press club without permission @HamidMirPAK The masked policemen searched various sections of the press club, an act being described as an attempt to pressure and intimidate the journalist community, according to local journalists. During the search, the armed men walked around the press club’s carpeted floor while wearing their shoes, an act considered disrespectful to the sanctity of the press club and the dignity of the journalistic institution. The incident has raised serious questions about the safety of journalists, press freedom, and respect for journalistic institutions. Further details will be shared following consultations among the press club’s executive body and the journalists, a statement said. @asmashirazi @Matiullahjan919 @arifanoor72 @SaleemKhanSafi— Tahir Khan (@taahir_khan) October 25, 2026


