اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج 26 اکتوبر کو ہوگا، جس میں ملک کی معاشی صورتحال، مہنگائی اور روپے پر دباؤ کا جائزہ لے کر آئندہ مدت کے لیے شرح سود سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
موجودہ بنیادی پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے۔ معاشی ماہرین اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور روپے پر دباؤ کے باعث شرح سود میں اضافے کا امکان زیرِ بحث ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مرکزی بینک بنیادی پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرسکتا ہے۔ اس صورت میں شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوجائے گی۔
تاہم معاشی ترقی کی رفتار اور کاروباری سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان بھی موجود ہے۔ حتمی فیصلہ مانیٹری پالیسی کمیٹی ملک کے معاشی اشاریوں اور مہنگائی کے خطرات کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔
شرح سود میں اضافے سے کاروباری قرضوں کی لاگت بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے موجودہ مالی حالات کو برقرار رکھے گا۔
مرکزی بینک کے سامنے اہم چیلنج مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی ترقی کی رفتار میں توازن قائم کرنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں اور ملکی معیشت کے لیے غیر یقینی صورت حال پیدا کر رہی ہے۔
اجلاس کے فیصلے کا اعلان اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کریں گے۔ مالیاتی منڈیوں، کاروباری حلقوں اور قرض لینے والوں کی نظریں اب مرکزی بینک کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔