مری میں خوفناک ٹریفک حادثہ ، خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق ، 8 زخمی

مری میں خوفناک ٹریفک حادثہ ، خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق ، 8 زخمی

مری میں گاڑی کھائی میں گرنے کے بعد سلنڈر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔

 حادثے نے ایک ہی گاڑی میں گنجائش سے زیادہ افراد کے سفر اور حفاظتی انتظامات سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

حادثہ کیسے ہوا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مری میں ایک گاڑی اچانک بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جاگری۔ حادثے کے وقت گاڑی میں 17 افراد سوار تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :ہری پور میں خوفناک ٹریفک حادثہ، ایک ہی محلے کے چار نوجوان جاں بحق 

حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ گاڑی کھائی میں گرنے کے بعد سلنڈر پھٹنے سے آگ لگ گئی جس نے حادثے کی شدت میں مزید اضافہ کردیا۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والی خاتون نگہت بی بی نے بتایا کہ گاڑی اچانک بے قابو ہوئی اور کھائی میں جاگری۔ ان کے مطابق گاڑی گرنے کے بعد سلنڈر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث جانی نقصان ہوا۔

لاشوں کی شناخت مشکل
نگہت بی بی کے مطابق آگ لگنے کے باعث حادثے میں جاں بحق ہونے والے بعض افراد کی میتیں ناقابل شناخت ہوگئیں۔ اس صورتحال نے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔

8 زخمی اسپتال منتقل

حادثے میں زخمی ہونے والے 8 افراد کو طبی امداد کے لیے ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔ اسپتال میں دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، جبکہ تشویشناک حالت میں موجود افراد کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

حفاظتی انتظامات پر سوالات

ایک ہی گاڑی میں 17 افراد کی موجودگی اور سلنڈر پھٹنے کے بعد آگ لگنے کے واقعے نے سفری تحفظ کے معاملے کو اہم بنا دیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سعودی عرب میں المناک ٹریفک حادثہ ، 5 خواتین ٹیچرز سمیت 6 افراد جاں بحق

ایسے حادثات میں گاڑی کی فنی حالت، مسافروں کی تعداد اور گیس سلنڈر کی حفاظت جیسے پہلو خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

مری جیسے پہاڑی علاقے میں ڈرائیونگ کے دوران معمولی بے احتیاطی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس لیے گاڑیوں کی فٹنس، محفوظ سفر اور حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔

یہ افسوسناک حادثہ سات قیمتی جانیں لے گیا  جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوکر اسپتال پہنچ گئے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ سانحہ ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنا ہے۔

editor

Related Articles