جنوبی کوریا می پاکستانی نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری

جنوبی کوریا می پاکستانی نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری

جنوبی کوریا میں ملازمت کے خواہش مند پاکستانی شہریوں کے لیے ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم (ای پی ایس) قانونی روزگار حاصل کرنے کا ایک سرکاری راستہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت اہل امیدوار مقررہ امتحانات، انتخابی مراحل اور ویزا کارروائی مکمل کرکے جنوبی کوریا میں کام کرنے کا موقع حاصل کرسکتے ہیں۔

پاکستان میں یہ پروگرام اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) اور جنوبی کوریا کی ہیومن ریسورسز ڈیولپمنٹ سروس کے تعاون سے چلایا جاتا ہے۔ اس کے تحت منتخب کارکنوں کو متعلقہ بھرتی کے مرحلے اور دستیاب شعبوں کے مطابق ملازمت کے مواقع مل سکتے ہیں۔
کن شعبوں میں ملازمت؟
ای پی ایس کے تحت عموماً مینوفیکچرنگ، تعمیرات، زراعت اور بعض دیگر شعبوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہوسکتے ہیں۔ ملازمت کے لیے منتخب کارکنوں کو عام طور پر ای نائن ورک ویزا کے تحت جنوبی کوریا جانے کا موقع ملتا ہے۔

اس نظام کا مقصد کارکنوں کی بھرتی کو باقاعدہ طریقہ کار سے منسلک کرنا ہے۔ اس میں ملازمت کا معاہدہ، اجرت اور کام کی جگہ پر تحفظ سے متعلق ضوابط اہمیت رکھتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :حکومت کا بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو 10 لاکھ روپے تک کا قرض دینے کا فیصلہ

تاہم ہر مرحلے میں دستیاب شعبے، نشستوں کی تعداد، رجسٹریشن کی تاریخیں اور شرائط مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس لیے درخواست دینے سے پہلے او ای سی کا تازہ ترین سرکاری اعلان ضرور دیکھنا چاہیے۔
اہلیت کیا ہے؟
عمومی طور پر درخواست گزار کی عمر 18 سے 39 سال کے درمیان ہونا ضروری ہے۔ تاہم عمر کی حد اور دیگر شرائط متعلقہ رجسٹریشن کے سرکاری اعلان کے مطابق دیکھی جائیں۔

امیدوار کے پاس درست پاسپورٹ ہونا چاہیے اور اسے مقررہ طبی تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں۔ مجرمانہ ریکارڈ، جنوبی کوریا میں غیر قانونی قیام یا سابقہ ملک بدری بھی اہلیت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

پاکستان سے بیرونِ ملک سفر پر کسی قانونی پابندی کی صورت میں بھی درخواست گزار کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ رجسٹریشن سے پہلے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات میں درج کوائف کی درستگی یقینی بنانا ضروری ہے۔
کوریائی زبان کا امتحان
ای پی ایس کے انتخابی عمل میں کوریائی زبان کی بنیادی مہارت اہم ہے۔ امیدواروں کو ای پی ایس ٹاپک امتحان دینا ہوتا ہے، جس میں پڑھنے اور سننے کے ذریعے زبان سمجھنے کی صلاحیت جانچی جاتی ہے۔

امتحان میں مطلوبہ معیار حاصل کرنے والے امیدوار اگلے مرحلے کے لیے اہل ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد متعلقہ بھرتی کے قواعد کے مطابق عملی مہارت اور قابلیت کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خوشخبری ، پراپرٹی مقدمات سپیشل کورٹس سنیں گی، لاہور ہائیکورٹ

اسکلز ٹیسٹ میں جسمانی استعداد، ہاتھ اور آنکھ کی ہم آہنگی، رنگوں کی پہچان اور متعلقہ ہنر کو جانچا جاسکتا ہے۔ ان مراحل کی تفصیلات ہر بھرتی کے سرکاری اعلان کے مطابق مختلف ہوسکتی ہیں۔

امیدواروں کو کوریائی زبان میں کام کے اوزار، حفاظتی ہدایات، فیکٹری کے معمولات اور سپروائزر کی گفتگو سے متعلق الفاظ سیکھنے چاہییں۔ سرکاری امتحانی مواد اور مشقی سوالات تیاری میں مدد دے سکتے ہیں۔
امتحان کے بعد کیا ہوگا؟
امتحان اور مقررہ مراحل مکمل کرنے کے بعد اہل امیدواروں کے نام جاب سیکر رجسٹر میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد جنوبی کوریا کا آجر امیدوار کا انتخاب کرسکتا ہے۔

انتخاب ہونے پر ملازمت کا معاہدہ اور دیگر ضروری کارروائی آگے بڑھتی ہے۔ امیدوار کو طبی معائنے، ویزا، روانگی سے پہلے تربیت اور متعلقہ قانونی تقاضے بھی پورے کرنا ہوتے ہیں۔

editor

Related Articles