ریاست نے ہمیں کیا دیا، سوائے لڑائی اور تقسیم کے؟ مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان پر اب سوال صرف سینیٹ اور قومی اسمبلی کی نشستوں کا نہیں، بلکہ سیاسی قیادت کے اپنے طرزِ عمل کا بھی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اس بیان کے بعد فضل الرحمان پر برس پڑے اور سوالات اٹھا رہے ہیں کہ جب ریاست نے کچھ نہیں دیا تو پھر اسی ریاست کے آئینی نظام کے تحت پارلیمان تک رسائی، سیاسی اثرورسوخ اور اقتدار کے ایوانوں میں نمائندگی کیسے حاصل ہوتی رہی؟ عوام نے ووٹ دیا، مگر انتخابات، پارلیمان اور آئینی عہدوں کا نظام بھی تو اسی ریاست کا حصہ ہے۔
سمدھی گورنر بنے تو عوام نے براہِ راست منتخب کیا تھا؟
ا فضل الرحمٰن کے سمدھی حاجی غلام علی کو نومبر 2022 میں خیبر پختونخوا کا گورنر مقرر کیا گیا تھا، گورنر کا عہدہ عوام کے براہِ راست ووٹ سے نہیں بلکہ آئینی طریقۂ کار کے تحت پُر کیا جاتا ہے۔
ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ جب سیاسی جماعتیں حکومت سازی اور اہم عہدوں کے لیے اتفاقِ رائے کرتی ہیں تو ان فیصلوں کی سیاسی ذمہ داری سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اگر ریاست نے کچھ نہیں دیا تو پھر سیاسی خاندانوں اور جماعتوں کو ریاستی نظام کے اندر ملنے والے عہدوں اور مواقع کی وضاحت بھی ہونی چاہیے۔
درانی دور میں بھائی کی سرکاری ملازمت پر بھی سوال اٹھے
سوشل میڈ یا پر صارفین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیا الرحمٰن کی سرکاری ملازمت اور صوبائی انتظامی سروس میں شمولیت بھی ماضی میں تنازع کا موضوع رہی۔
2007 میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے دوران، جب اکرم خان درانی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ تھے، ضیا الرحمٰن کو صوبائی مینجمنٹ سروس میں شامل کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی نظام میں خامیاں ہیں تو ان کی اصلاح کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے، مگر جب اسی نظام سے اپنے خاندان یا سیاسی حلقے کے افراد کو اہم عہدے ملنے کے معاملات زیرِ بحث آئیں تو ان پر بھی شفاف جواب دینا چاہیے۔ ریاست سے شکایت کا معیار سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔
گاڑیاں، بنگلے اور پارلیمانی نشستیں: سوال شفافیت کا ہے
مولانا فضل الرحمٰن کے اثاثوں، گاڑیوں یا بنگلوں کے بارے میں سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جاتے ہیں تاہم فضل الرحمان آج تک ان سوالات کے جوابات نہیں دے سکے ہیں ،اگر ریاست نے کچھ نہیں دیا تو پھر سیاسی سفر کے دوران حاصل ہونے والے مواقع، پارلیمانی نمائندگی اور اہم عہدوں پر تقرریوں کے معاملات پر واضح مؤقف بھی سامنے آنا چاہیے۔
عوامی ووٹ یقیناً سیاسی نمائندگی کا بنیادی ذریعہ ہے، مگر یہ کہنا کہ ریاست نے کچھ نہیں دیا، اس آئینی نظام کے کردار کو نظرانداز کرتا ہے جس کے ذریعے عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔
سیاسی قیادت کا احتساب بھی ضروری
دہائیوں سے ملکی سیاست میں سرگرم قیادت سے یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ اس نے قومی اتحاد، آئینی استحکام، سیاسی برداشت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کیا کردار ادا کیا؟ اگر ریاست سے صرف لڑائی اور تقسیم کی شکایت ہے تو سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے فیصلوں، اتحادوں اور اقتدار میں کردار کا جائزہ دینا ہوگا۔
ریاست نے کچھ نہیں دیا تو پھر ریاست کے آئینی نظام سے ملنے والی پارلیمانی نمائندگی، اہم سیاسی عہدوں اور سرکاری تقرریوں کے معاملات پر وضاحت کون دے گا؟ ریاست سے سوال ضرور کریں، مگر سیاسی قیادت کو بھی اپنے مؤقف اور اپنے کردار کا جواب دینا ہوگا۔