خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر برائے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) محمود جان بابر نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو مزید رعایت نہیں دی جائے گی۔
محمود جان بابر نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے پاس اب صرف تین راستے ہیں، وہ فوری طور پر قانون کے سامنے ہتھیار ڈال دیں، علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں یا پھر ریاستی کارروائی کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں امن کے قیام کے لیے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے اور اب کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
گورنر کے مشیر کا کہنا تھا کہ جہاں دہشت گردی موجود ہو، وہاں ترقی اور خوشحالی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے ارکان اور مقامی قبائلی عمائدین کو آگے بڑھ کر لوگوں سے بات کرنا ہوگی تاکہ وہ اپنے علاقوں میں امن، ترقی اور بقا کے لیے کردار ادا کرسکیں۔
محمود جان بابر نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مزید مذاکرات کا کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔ ان کے مطابق اگر کسی گھر میں دہشت گرد موجود ہو اور پورے گاؤں کو اس کا علم ہو تو مقامی لوگوں کو اس کے خلاف کردار ادا کرنا ہوگا، بصورت دیگر ریاست کارروائی کرے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی برقرار رہنے کی صورت میں متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔ سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر کے ساتھ پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی مشکلات کا شکار رہے گی۔
محمود جان بابر کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی کو امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ان علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں اور عوامی سہولتوں کی بحالی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔