آزاد ڈیجیٹل کی غیر جانبدارانہ صحافت تحریک انصاف آفیشل کی چیخیں نکل گئیں

آزاد ڈیجیٹل کی غیر جانبدارانہ صحافت تحریک انصاف آفیشل کی چیخیں نکل گئیں

آزاد ڈیجیٹل کی غیر جانبدارانہ صحافت تحریک انصاف آفیشل کی چیخیں نکل گئیں، سوال یہ ہے کہ آذاد ڈیجیٹل نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کیخلاف رپورٹنگ کی تو تحریک انصاف کواس کی تکلیف کیوں ہوگئی؟ آزاد ڈیجیٹل نے ہمیشہ غیر جانبدارانہ صحافت کو فروغ دیا ہے اور حقائق عوام کے سامنے لائے ۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی ایف ڈبلیو او کی کارکردگی سے متعلق اسمبلی میں گفتگو پر رپورٹنگ کرنے کے بعد آزاد ڈیجیٹل کو تنقید کا نشانہ بنانے کا معاملہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر کسی صحافتی ادارے کی رپورٹنگ پر اعتراض ہے تو اس کا جواب مستند شواہد اور حقائق کے ساتھ دیا جانا چاہیے، نہ کہ ادارے کی ساکھ کو متنازع بنانے کی کوشش کی جائے۔

آزاد ڈیجیٹل نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے متعلق رپورٹنگ کے ذریعے ایک اہم معاملے کو عوامی بحث کا حصہ بنایا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر رپورٹ میں کوئی غلطی تھی تو اس کی نشاندہی شواہد کے ساتھ کیوں نہیں کی جاتی؟ کسی خبر سے اختلاف کرنا ہر فریق کا حق ہے، لیکن اختلاف کو بنیاد بنا کر صحافتی ادارے پر پروپیگنڈے کا الزام لگانا الگ معاملہ ہے۔

کسی بھی جمہوری اور آزاد معاشرے میں صحافت کا بنیادی وظیفہ اقتدار کے ایوانوں کو آئینہ دکھانا اور عوامی مفاد کے معاملات کو بلا خوف و خطر سامنے لانا ہوتا ہے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جب تک اپوزیشن میں ہوں، صحافت کی آزادی کے قصیدے پڑھتی ہیں اور جیسے ہی ان کی اپنی کارکردگی یا ترجیحات پر سوال اٹھایا جائے، تو وہ صحافیوں اور آزاد میڈیا اداروں پر حملے شروع کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایمرجنسی یا گورنر راج؟ آزاد ڈیجیٹل کے پوڈکاسٹ میں سینئر صحافی غریدہ فاروقی کی خیبر پختونخوا سے متعلق خبر سچ ثابت

تحریک انصاف کی جانب سے آزاد ڈیجیٹل کے خلاف چلائی جانے والی حالیہ مہم اسی ذہنیت اور بوکھلاہٹ کا تسلسل ہے۔ آزاد ڈیجیٹل نے ہمیشہ بلا تفریق، غیر جانبدارانہ اور تحقیقی صحافت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے عوام کو سچ دکھایا ہے۔

   خیبر پختونخوا میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی ، آزاد ڈیجیٹل نے گراؤنڈ رپورٹنگ کے ذریعے انتظامی خامیوں، حکومتی عدم توجہی اور عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔ تب بھی اس غیر جانبدارانہ صحافت کو برداشت کرنے کے بجائے صحافتی ادارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

 اب بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے حالیہ بیانات اور FWO کی کارکردگی جیسے حساس اور عوامی نوعیت کے موضوعات پر آزاد ڈیجیٹل کی رپورٹنگ صرف اور صرف حقائق پر مبنی ہے، تاکہ عوام کو ہر فریق کا موقف شفاف انداز میں مل سکے۔

کسی بھی سچائی پر مبنی رپورٹنگ کو “پیڈ مہم” یا “پلانٹڈ رائے عامہ” کا نام دے کر متنازع بنانا، دراصل اپنی انتظامی اور سیاسی نااہلی سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ جو سیاسی عناصر آزاد ڈیجیٹل کی غیر جانبدار صحافت سے خائف ہیں، وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ صحافتی اداروں کا کام کسی سیاسی بیانیے کا آلہ کار بننا نہیں بلکہ عوام تک سچائی پہنچانا ہے۔

آزاد ڈیجیٹل اپنے صحافتی اصولوں، غیر جانبداری اور سچ کی تلاش کے عزم پر قائم ہے اور کسی بھی سیاسی دباؤ، بے بنیاد مہم یا دھمکی  کے سامنے جھکنے کے بجائے عوام کے سامنے سچ لاتا رہے گا۔

editor

Related Articles