پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی تیاری، وزیراعظم کی علی بابا کے ساتھ بڑے منصوبوں میں تیزی کی ہدایت

پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی تیاری،  وزیراعظم  کی علی بابا کے ساتھ بڑے منصوبوں  میں تیزی کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ناگزیر ہے۔ زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ علی بابا گروپ کی جانب سے پاکستانی زرعی اجناس کی چینی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات بڑھانے کے لیے تعاون خوش آئند ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت اور گورننس میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن اور چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے ساتھ تعاون میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، سید مصطفیٰ کمال، عبدالعلیم خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال پاکستان میں تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولتوں اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کے پی کے 12 اضلاع میں محدود آپریشن ہوں گے، کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، مشیر وزیراعظم پرویز خٹک کا دوٹوک اعلان

انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں علی بابا گروپ کی جانب سے زرعی شعبے میں آٹومیشن اور پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لیے تعاون خوش آئند ہے۔

آئی ٹی گریجویٹس کے لیے مصنوعی ذہانت کی تربیت کا پروگرام

وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت جاری پروگرام اگنائیٹ اور علی بابا کے اشتراک سے آئی ٹی گریجویٹس کے لیے مصنوعی ذہانت کی 15 روزہ تربیت کا پروگرام جلد شروع کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تربیت فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے۔

وزیراعظم نے علی بابا کے تعاون سے کینسر کی پیشگی تشخیص کے نظام کا اطلاق بھی جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے اقدامات

وزیراعظم نے ایکسپورٹ پروموشن بورڈ کو ہدایت کی کہ علی بابا کے ساتھ مل کر ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے مؤثر تعاون یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ دورۂ چین کے دوران ہانگژو میں علی بابا کے ہیڈکوارٹر میں کمپنی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ علی بابا اور حکومت پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ننھے شاہینوں کا عالمی میدان میں بڑا کارنامہ، فیفا انڈر 15 ورلڈ کپ میں پہلی تاریخی کامیابی

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لیے علی بابا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر خصوصی پاکستان پویلین قائم کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایس ایم ایز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور علی بابا کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے دو سالہ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت عالمی منڈیوں تک رسائی، تربیت اور ای کامرس کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

زراعت، صحت اور توانائی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پیش رفت

اجلاس میں حکومت پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری اسٹریٹجک تعاون پر بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور ترش پھلوں اور زیتون کی برآمدات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام جاری ہے۔

پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام بھی فعال کردیا گیا ہے۔

اجلاس میں ایف بی آر اور پرال کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور سینٹرل ڈیٹا ہب کی تیاری پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کینسر کی تشخیص کے مجوزہ پائلٹ منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

توانائی کے شعبے میں اوگرا کو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت اور بزنس انٹیلی جنس ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے اوگرا کو علی بابا کے تعاون سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کا جدید نظام جلد رائج کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیم، ریلوے، پوسٹل سروس اور شہری انتظام کے شعبوں میں بھی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اقدامات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

تمام منصوبوں پر نومبر تک پیش رفت کی رپورٹ طلب

وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے تمام منصوبوں پر واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی کے تحت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے تمام متعلقہ وزارتوں کو نومبر تک ضروری اقدامات مکمل کرکے پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

Related Articles