وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کسی سیاسی جماعت کو اختیارات میں شریک نہیں کیا گیا، جبکہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی اس کے وفد کے پاس مؤثر اختیار نہیں تھا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے انتشار اور بدامنی پھیلانے کی باتیں کی گئیں، تاہم حکومت مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شریک ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں :افغانستان بے بنیاد الزامات کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، طارق فضل چوہدری
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی نے مذاکرات کے دوران طے پانے والے مسودوں میں تبدیلیاں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے اسلام آباد کو سومنات بنانے کی باتیں بھی کی گئیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے، تاہم صوبے میں کسی سیاسی جماعت کو اختیارات میں شریک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
