تھرپارکر میں ایمبولینس میں سلنڈردھماکا، 7 افراد جاں بحق، 5 زخمی

تھرپارکر میں ایمبولینس  میں  سلنڈردھماکا، 7 افراد جاں بحق، 5 زخمی

 تھر پارکر کے علاقے نگرپارکر میں آکسیجن سلنڈر تبدیل کرتے ہوئے ایمبولینس میں آگ بھڑک اٹھی، دھماکے نے طبی مراکز میں حفاظتی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے

تھرپارکر کے علاقے نگرپارکر میں ایمبولینس کے اندر سلنڈر پھٹنے سے 7 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے سول اسپتال مٹھی منتقل کردیا گیا۔

حادثہ ڈانو دھاندل میں پیش آیا، جہاں بنیادی صحت مرکز پلس میں کھڑی پی پی ایچ آئی کی ایمبولینس میں اچانک دھماکا ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر تبدیل کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی۔

آکسیجن سلنڈر
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر کی تبدیلی کے دوران آگ لگنے سے دھماکا ہوا۔ واقعے میں 7 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے۔

 یہ بھی پڑھیں :کوہاٹ پولیس لائنز دھماکا، حملے میں کتنے کلوگرام بارود کا استعمال ہوا؟، تحقیقاتی رپورٹ تیار

دھماکے کے فوری بعد زخمیوں کو سول اسپتال مٹھی منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

حادثے کی سنگینی نے طبی مراکز میں آکسیجن سلنڈروں کی محفوظ ہینڈلنگ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کی اہمیت کو نمایاں کردیا ہے۔ آکسیجن سلنڈر طبی سہولیات کے لیے ناگزیر ہیں  تاہم ان کی تبدیلی اور استعمال کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

امدادی کارروائیاں
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق انتظامیہ، ریسکیو اور محکمہ صحت کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ متعلقہ ادارے حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کے بعد جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد نے علاقے میں طبی سہولیات کے مراکز پر حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا ہے۔

حفاظتی انتظامات
طبی مراکز میں آکسیجن سلنڈروں کا استعمال مریضوں کی جان بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم سلنڈروں کی تبدیلی، ذخیرہ کرنے اور استعمال کے دوران حفاظتی اصولوں کی پابندی بھی اتنی ہی اہم ہے۔

نگرپارکر کے اس واقعے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ طبی مراکز میں آکسیجن سلنڈروں سے متعلق حفاظتی طریقہ کار پر کس حد تک عمل کیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے آلات کی مناسب دیکھ بھال، تربیت یافتہ عملے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :کوہاٹ پولیس لائنز مسجد دھماکا : 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید، 103 زخمی، ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی

واقعے کی مکمل وجوہات سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ دھماکا کن حالات میں ہوا اور اس کے ذمہ دار عوامل کیا تھے۔ فی الحال انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی توجہ امدادی کارروائیوں اور متاثرہ افراد سے متعلق ضروری امور پر مرکوز ہے۔

تھرپارکر کا یہ افسوس ناک واقعہ طبی مراکز میں حفاظتی انتظامات کی اہمیت یاد دلاتا ہے، جہاں معمولی غفلت بھی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

editor

Related Articles