مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ صوبے میں گزشتہ 13 سال کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کو ڈھائی ہفتوں میں ختم کرنا ممکن نہیں، تاہم مختصر مدت میں گورنر اور ایڈوائزری کونسل نے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں،حکومت کی توجہ گورننس بہتر بنانے، پولیس کو سہولیات فراہم کرنے اور صوبے کے عوامی مسائل حل کرنے پر مرکوز ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ پولیس کو گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ پولیس شہدا کے پیکج میں بھی اضافہ کیا گیا ہے،شہدا کے خاندانوں، خصوصاً ان کی بچیوں کے لیے جہیز فنڈز اور اسکالرشپس کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے اور ایسے علاقوں میں حکومتی عمل داری بحال کرانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جہاں حکومت کی گرفت کمزور پڑ گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ گورننس کی بہتری کے لیے کام جاری ہے اور آئندہ تین سے چھ ماہ میں عملی نتائج دینے پر توجہ دی جارہی ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ساتھ کسی نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بات نہیں کی۔
مشیر اطلاعات نے سہیل آفریدی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی حفاظتی تحویل میں ہیں اور ریڈیو پاکستان پر حملے کے مقدمے میں ان سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ریڈیو پاکستان کی عمارت جلانے والے ہجوم کی قیادت کی تھی اور ان کے خلاف سنگین شواہد موجود ہیں،انہوں نے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کس کو دی جائے اور کس کو نہیں، یہ ان کے مینڈیٹ کا حصہ نہیں اصل ذمہ داری خیبرپختونخوا کے مسائل حل کرنا اور عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے، نہ کہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنا۔
صوبائی محکموں کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بعض محکموں میں بے ضابطگیاں موجود ہیں، جبکہ صحت کے شعبے کی صورتحال بھی خراب ہے اور اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع کے عوام دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی بھی کمی ہے، حکومت کا ارادہ ہے کہ صوبائی بجٹ کا 70 فیصد ان 12 اضلاع میں خرچ کیا جائے تاکہ متاثرہ آبادی کو ضروری سہولیات فراہم کرنے اور محرومیوں میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔