وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں فضل الرحمان کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر کمائی کرنے والے اور 40 سال تک اقتدار کے مزے لینے والے پارسائی کا ڈھونگ بند کریں کیونکہ یہاں کوئی بھی آب زم زم سے دھلا ہوا نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سیاسی ماحول اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور حکومت پر ہونے والی تنقید کا بھرپور جواب دیا۔
خواجہ آصف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مولانا صاحب !کا اپنا سیاسی ماضی تضادات سے بھرا پڑا ہے، اس لیے انہیں دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ فضل الرحمان نے اپنے دور میں افغانستان کے دورے کیوں کیے اور بغیر کسی سرکاری منصب کے ان دوروں کی کیا حیثیت تھی؟ انہوں نے افغانستان کے دورے کی درخواست کیوں کی، کیا وہ ملک کے وزیر خارجہ تھے۔
کشمیر کمیٹی کی صدارت اور 40 سالہ سیاسی مراعات
وزیر دفاع نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان نے لگ بھگ 40 سال تک اقتدار کے مختلف ایوانوں اور عہدوں کے مزے لوٹے ہیں، جن میں 10 سال تک کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ بھی شامل ہے، لیکن اس طویل عرصے میں عملی خدمات کا توازن صفر کے برابر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے مذہب کو سیاست اور کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اگر وہ چاہیں تو ماضی کے تمام پتے کھول سکتے ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ الزام تراشی کی بجائے پارلیمانی اور سیاسی روایات کا پاس رکھا جائے۔
تہران دورے اور خطے میں امن کی کوششوں کی اصل حقیقت
ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے تہران کے دورے سے متعلق وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کوئی خفیہ دفاعی معاہدہ طے نہیں پا رہا تھا اور نہ ہی پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی بات ہو رہی تھی۔
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن عالمی سطح پر پاکستان اور ملکی قیادت کے امن دوست کردار کو سراہنا ہر حب الوطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔
علاقائی دفاعی معاہدے اور جمہوری اقدار
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے برادر اسلامی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پہلے ہی مضبوط دفاعی معاہدے موجود ہیں، جبکہ قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کے نئے باب کھل رہے ہیں۔
اس وقت ملکی سیاست کو محاذ آرائی کے بجائے قومی مفاہمت اور وسیع القلبی کی ضرورت ہے۔ جب سیاسی قائدین ذاتی اور گروہی اختلافات کو قومی سلامتی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے پازیٹو امیج پر ترجیح دیتے ہیں، تو اس سے جمہوری نظام کمزور اور ملک کے مخالفین کو تقویت ملتی ہے۔