بیرئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنایا ، عدالت نے دونوں کو 3 مختلف دفعات کے تحت سزا کا حکم دیا ہے جبکہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
دونوں وکلاء کیجانب سے صحت جرم سے انکار پر باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوا ، عدالت کی جانب سے کیس میں اسٹیٹ کونسل مقرر کیا گیا تھا، اسٹیٹ کونسل عاطف محمود کی جانب سے گواہان پر جرح کی گئی جبکہ پراسکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر کیس میں 7 گواہان کو پیش کیا گیا تھا ۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف 25 اکتوبر 2024ء کو مقدمہ درج کیا گیا تھا ، ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ اس کیس میں ضمانت پر تھے ۔
واضح رہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر مبینہ طور پر روٹ میں رکاوٹ ڈالنے اور لوگوں کو اشتعال دلانے سے متعلق کیس میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد کی تھی ۔
مقدمات اور گرفتاریوں کا سلسلہ
دونوں وکیل 23 جنوری سے پولیس کی تحویل میں ہیں، جب انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر ایک احتجاج کے سلسلے میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اس گرفتاری کے اگلے ہی دن ایک سیشن کورٹ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق پیکا (پرینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) کے کیس میں دونوں کو متعدد چارجز کے تحت 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں جوڑے کی سزا معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا حتمی فیصلے تک 200,000 روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔
تاہم یہ قانونی ریلیف انتہائی مختصر ثابت ہوا اور ضمانت کے چند گھنٹے بعد ہی اسلام آباد پولیس نے دونوں کو ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر کے انسداد دہشتگردی عدالت کے سامنے پیش کر دیا ، ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر ایک احتجاج کے دوران حکومت مخالف نعرے بازی کرنے اور شاہراہوں کو بلاک کرنے کا الزام تھا۔