اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر شدید معاشی دھچکوں کے باوجود پاکستان کی معیشت کے بنیادی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اگرچہ معیشت کو اب بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے تاہم 2022 کے مقابلے میں پاکستان نے طویل سفر طے کیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے سالانہ جلسہ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رسد میں نمایاں رکاوٹوں اور عالمی حالات کے دباؤ کے باوجود ملکی معیشت پر ان کے اثرات کو محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ ان کے مطابق مالی سال 2025-26 میں مہنگائی کی شرح ہدف کے قریب رہی، تاہم اس کے بعد اس میں اضافہ ہوا ہے۔
جمیل احمد نے توقع ظاہر کی کہ محتاط مالیاتی پالیسی اور سخت مالیاتی اقدامات کے اثرات کے باعث مہنگائی بتدریج کم ہوگی اور مالی سال 2026-27 کے وسط تک 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حد کی جانب واپس آنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی پالیسی میں مناسب اقدامات ضروری ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا بیرونی کھاتہ بھی مستحکم ہے اور جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ان کے بقول ملکی معیشت کی حقیقی شرح نمو بھی بتدریج بحال ہو رہی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں معیشت کو سکڑاؤ کا سامنا تھا، جبکہ مالی سال 2025-26 میں شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مالی سال 2026-27 میں معاشی ترقی کی رفتار مزید بڑھے گی۔
جمیل احمد نے کہا کہ معاشی بنیادی اشاریوں میں بہتری اور ملکی معیشت کی بڑھتی ہوئی قوتِ برداشت کو عالمی کریڈٹ ریٹنگ ادارے، کثیرالجہتی مالیاتی شراکت دار اور غیر ملکی سرمایہ کار بھی تسلیم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتائج حاصل کر رہا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ تقریباً ایک سال تک پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے بعد اس میں اضافہ کرنا معاشی استحکام بحال کرنے کے لیے ضروری تھا۔ ان کے مطابق بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور قرضوں کی مالی ضروریات سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے، تاکہ ملک کو بیرونی مالی وسائل اور قرضوں کے حوالے سے کسی زیادہ سنگین بحران سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قرضہ جاتی زرمبادلہ اخراج کو منظم کرنے کے لیے عارضی اقدامات بھی ناگزیر تھے۔ ان اقدامات کا مقصد بیرونی کھاتے پر دباؤ محدود کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ میں مدد دینا اور مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھنا تھا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے خطاب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ پاکستان کی معیشت نے 2022 کے بعد متعدد مشکلات کے باوجود استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے۔ تاہم مہنگائی میں حالیہ اضافے، بیرونی کھاتے کے توازن، قرضوں کی ضروریات اور معاشی ترقی کی رفتار جیسے معاملات اب بھی اہم رہیں گے۔ مالی سال 2026-27 میں مہنگائی کو ہدفی حد میں واپس لانا اور معاشی ترقی کو مزید بہتر بنانا ملکی معاشی پالیسی کے اہم اہداف ہوں گے۔