پاکستانی سائنس دانوں نے عالمی سطح پر ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلی۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ایلسیویئر کی مرتب کردہ 2026 کی فہرست میں پاکستانی اداروں سے وابستہ 1034 سائنس دانوں کو دنیا کے ٹاپ 2 فیصد محققین میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں شامل محققین کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان عالمی سطح پر 33ویں نمبر پر ہے۔
میڈیارپورٹ کے مطابق 2025 میں اس فہرست میں پاکستانی سائنس دانوں کی تعداد 946 تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 1034 ہوگئی۔ اس طرح ایک سال کے دوران پاکستانی محققین کی نمائندگی میں 9.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں اس فہرست میں پاکستانی سائنس دانوں کی تعداد 243 تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 1034 ہوگئی۔ اس عرصے میں پاکستانی محققین کی تعداد میں 325.5 فیصد اضافہ ہوا۔
فہرست میں مختلف پاکستانی جامعات اور تحقیقی اداروں سے وابستہ سائنس دان شامل ہیں۔ فراہم کردہ فہرست کے مطابق نمایاں 20 محققین اور ان کے ادارے درج ذیل ہیں:
ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ، آغا خان یونیورسٹی
محمد اشرف، یونیورسٹی آف لاہور
سلیم شہباز الدین ویرانی، آغا خان یونیورسٹی
عائشہ کوثر، نیشنل سینٹر فار فزکس
محمد ساجد، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور
محمد اکرم، پنجاب یونیورسٹی
جواد عباس، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب
تصور حیات، قائداعظم یونیورسٹی
محمد قمر بلال، باچا خان یونیورسٹی
ہارون خان، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان
فیصل ذوالفقار، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
رحمت الٰہی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد
شاہ فہد، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان
محمد شاہد رضوان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد
شفقت ایم علی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد
محمد رمضان سعید اشرف جنجوعہ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد
محمد بلال طاہر، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی
محمد اعظم، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان
عبدالرؤف، یونیورسٹی آف ساہیوال
عثمان محمود، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور
کس پاکستانی یونیورسٹی کے سب سے زیادہ سائنس دان شامل ہوئے؟
رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد نے 2026 کی فہرست میں شامل محققین کی تعداد کے لحاظ سے پاکستانی اداروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یونیورسٹی کے 56 سائنس دان اس فہرست میں شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد 50 محققین کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ایلسیویئر کی فہرست میں ایسے محققین کو بھی الگ سے شامل کیا گیا ہے جن کی سائنسی تحقیق میں مجموعی خدمات اور طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے 321 سائنس دان طویل مدتی تحقیقی اثرات کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔ یہ فہرست محققین کی اپنے پورے کیریئر کے دوران سائنسی تحقیق میں خدمات کو مدنظر رکھتی ہے۔
پاکستانی سائنس دانوں کی عالمی درجہ بندی میں بڑھتی ہوئی نمائندگی ملک میں تحقیق، علمی سرگرمیوں اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔