جب اقتدار کی ہوس اور مفادات کا نشہ سر چڑھ کر بولے، تو کچھ سیاستدان اسی تھالی میں چھید کرتے ہیں جس کا وہ برسوں سے کھاتے آ رہے ہیں جس کی اس وقت واضح مثال جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمن بن چکا ہے ، ڈیرہ اسماعیل خان کے غیور شہریوں نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کی اس منافقانہ اور دوغلی سیاست پر کاری ضرب لگا دی ہے۔
مفاد ملے تو ریاست کو ‘ماں’ قرار دینا اور نہ ملے تو اسی کے خلاف زہر اگلنا ، فضل الرحمٰن کا یہ شرمناک ڈرامہ اور سیاسی عیاری اب بیدار مغز عوام کے سامنے بالکل عیاں ہو چکی ہے، ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو میں فضل الرحمٰن کی حالیہ قومی اسمبلی میں تقریر اور دوہرے بیانات پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ان کا سیاسی اور ذہنی دیوالیہ پن قرار دیا ہے۔
ڈی آئی خان کے عوام کا دوٹوک مؤقف ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا کردار ہمیشہ دوہرا رہا ہے ، وہ کبھی سیاسی مفادات کی خاطر ریاست کو “ماں” کا درجہ دیتے ہیں اور کبھی اقتدار نہ ملنے پر اسی ریاست اور اداروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔
دوغلی پالیسی ناقابلِ برداشت
مقامی شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کی دہری پالیسی اب مزید نہیں چل سکتی ، ایک ہی سانس میں ریاست کی تعریف اور تنقید کا تضاد ان کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے ، شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ریاست یا ادارے کوئی اصلاحی قدم اٹھاتے ہیں تو اس پر تعمیری اور مثبت بات ہونی چاہیے، نہ کہ ذاتی و سیاسی مفادات کی خاطر صرف زبانی جمع خرچ اور تماشا لگایا جائے۔
“کھاتے پاکستان کا ہیں، اور تنقید ریاست پر!
شہریوں نے سخت الفاظ میں سوال اٹھایا ہے کہ فضل الرحمن کے پاس موجود تمام بنگلے، جائیدادیں، کوٹھیاں اور شاہانہ اثاثے اسی ریاستِ پاکستان سے بنائے ہیں ، اس مملکت سے سب کچھ حاصل کرنے اور عیش و آرام کی زندگی گزارنے کے باوجود اس نام نہاد سیاستدان کا ریاست پر تنقید کرنا اور زبان درازی کرنا انتہائی شرمناک اور قابلِ مذمت ہے۔
ڈی آئی خان کے باسیوں نے واضح کیا ہے کہ عوام اب باشعور ہو چکی ہے اور وہ کسی کو بھی سستی شہرت یا ذاتی مفادات کے لیے ریاست اور اداروں کے خلاف کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں کا یہ دوٹوک اور سخت مؤقف اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عوام میں سیاسی بصیرت اور شعور بیدار ہو چکا ہے، اور وہ اب دوہرے معیار اور مفاد پرستانہ سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہیں ، ریاست کو اپنی سہولت کے مطابق کبھی ‘ماں’ قرار دینا اور وقت پڑنے پر اسی کے خلاف منفی یا سخت زبان استعمال کرنا ایک ناقابلِ قبول روش ہے۔
شہریوں نے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ذاتی اور سیاسی اہداف کے حصول کے لیے ریاستی وقار اور قومی مفادات کو قربان کرنے کی سیاست کا وقت اب ختم ہو چکا ہے، اور عوام اب مزید کسی بھی فرد یا جماعت کو ریاست کے خلاف ایسی بیان بازی کی اجازت نہیں دیں گے۔