گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ دور حکومت میں دکھائی گئی بدترین کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مختلف صوبائی قوانین کا جائزہ لے رہے ہیں، غلط قوانین میں بہتری لا کر انہیں درست کیا جا سکتا ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ ایک بہتر اور مضبوط خیبرپختونخوا بنائیں۔
صحت کے شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے فیصل کنڈی کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت سے 13 سالہ کارکردگی کا حساب لیا جائے ، دعوے کیے گئے کہ یورپ اور امریکا سے مریض علاج کے لیے آ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسپتالوں میں مریضوں کیلئے بیڈز دستیاب نہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ صوبے میں بہتری لائیں گے اور عوام کی خدمت کریں گے، غیر قانونی تجاوزات پر قابض افراد کو جگہیں خالی کرنا ہوں گی، تجاوزات کے معاملے پر کسی کی سفارش نہیں کروں گا، جنہوں نے تجاوزات قائم کئے اسے ختم کرنا ہوگا ۔
افغانستان بارے سوال پر گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ افغانستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی، پاک فوج نے بہادری سے بھرپور جواب دیا ، پاکستان کی سلامتی پر حملہ کرنے والے ہر فریق کو بھرپور جواب دیا جائے گا، بھارت کی مثال سب کے سامنے ہے، پاک فوج نے بھارت کو بھی بھرپور جواب دیا تھا۔
خیبر گرلز میڈیکل کالج پشاور کی ساتویں کانووکیشن کی تقریب اور تقسیم اسناد
قبل ازیں خیبر گرلز میڈیکل کالج پشاور کی ساتویں کانووکیشن کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات میں گولڈ میڈلز تقسیم کیے۔
تقریب میں سیشن 2021، 2022 اور 2023 کی 29 طالبات کو مجموعی طور پر 86 گولڈ میڈلز دیے گئے، جبکہ 180 گریجویٹس نے اپنی ڈگریاں وصول کیں۔ ان میں 171 ایم بی بی ایس گریجویٹس اور 9 پوسٹ گریجویٹس شامل تھے۔
کانووکیشن میں فرح افشین نمایاں رہیں، جنہوں نے 15 گولڈ میڈلز حاصل کیے۔ انہوں نے ایم بی بی ایس کے پانچوں پیشہ ورانہ امتحانات میں مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ نو مضامین میں اول آنے کے ساتھ بہترین میڈیکل گریجویٹ کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ شرین شمس نے 9 جبکہ نور ایاز اور خدیجہ منظر نے 8، 8 گولڈ میڈلز حاصل کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے تمام گریجویٹس کو مبارکباد دیتے کہا کہ میڈیسن آسان شعبہ نہیں، اس لیے ڈاکٹروں کو اپنے علم میں مسلسل اضافہ کرتے رہنا چاہیے ، ڈگری حاصل کرنے کے بعد گریجویٹس پر نئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان کی کامیابی صرف ذاتی ترقی تک محدود نہیں، بلکہ دوسروں کی خدمت میں بھی مضمر ہے۔
گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں میں ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی کمی ہے، جس کے باعث لوگوں کو بنیادی علاج کے لیے بھی طویل سفر کرنا پڑتا ہے ، صوبے میں صحت کے شعبے میں اب تک خاطر خواہ کام نہیں ہوسکا، تاہم محدود وسائل کے باوجود بہتر ہسپتالوں کی تعمیر اور طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اخراجات کیے جائیں گے۔ انہوں نے تحقیق کے شعبے میں بھی دستیاب فنڈز استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
فیصل کریم کنڈی نے طالبات پر زور دیا کہ وہ عملی زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کریں اور خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں میں طبی خدمات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں، صحت اور تعلیم حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے گریجویٹس کو تلقین کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں غفلت نہ برتیں، اپنے علم اور کام کے معیار پر سمجھوتہ نہ کریں اور ادارے سے حاصل ہونے والی تربیت کو عوام کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی شعبے میں مسلسل سیکھنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔