امریکی امداد لے کر پاکستان کا وزیراعظم بننے کا خواب، وکی لیکس نے 17 سالہ پرانی رپورٹ میں نئے راز فاش کر دیے

امریکی امداد لے کر پاکستان کا وزیراعظم بننے کا خواب، وکی لیکس نے 17 سالہ پرانی رپورٹ میں نئے راز فاش کر دیے

وکی لیکس کی 17 سال پرانی خفیہ سفارتی کیبل میں انکشاف ہوا ہے کہ فضل الرحمان تمام فریقین سے روابط رکھتے ہوئے امریکی حمایت اور اقتدار کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

آزاد ڈیجیٹل کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ 17 سال پرانی ایک انتہائی اہم اور خفیہ سفارتی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ 28 ستمبر کو قومی اسمبلی میں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر فضل الرحمان اور امریکی سفیر کے درمیان ایک اہم خفیہ ملاقات ہوئی۔ 

وکی لیکس کے مطابق اس ملاقات کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لیے امریکی اقتصادی اور سماجی ترقیاتی امداد، پاک افغان پالیسی اور پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کی حمایت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق فضل الرحمان بظاہر طالبان کی حمایت کرتے رہے ہیں جبکہ امریکی عہدیداروں کے ساتھ جب بھی بیٹھے انہوں نے بارہا امن کے قیام اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی مخالفت کرنے کا اظہار کیا، وہ بظاہر یہ بھی مؤقف اختیار کرتے رہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج کے عسکری آپریشنز ان مقاصد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مشرف کی حکمت عملی اور صوبائی حکومت کی پیشکش

دستاویزات کے مطابق تاریخی پس منظر کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں سیاسی منظرنامہ انتہائی کشیدہ تھا۔

اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے امریکی ڈپٹی سیکریٹری کو دی گئی بریفنگز میں فضل الرحمان کا ذکر 3 بار کیا اور انہیں قبائلی علاقوں میں انتہا پسندانہ سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے اور مقامی سطح پر پرو ویسٹرن اتحاد کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک کلیدی کردار کے طور پر پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:فضل الرحمان کی 40 سالہ ‘موجیں’! کس کس عہدے پر مزے کیے؟ خواجہ آصف نے مولانا کا کٹا چٹھا بھرے ایوان میں کھول دیا

دستاویز کے مطابق اس کے بدلے میں مشرف کی جانب سے فضل الرحمان کو صوبائی حکومت میں ایک اہم حکومتی عہدے کی پیشکش کی جانی تھی۔

دستاویزات کے مطابق اگرچہ فضل الرحمان کا اصل اور حتمی ہدف پاکستان کا وزیر اعظم بننا تھا، لیکن وہ بخوبی جانتے تھے کہ اس وقت وہ منزل فی الحال ان کی رسائی سے باہر ہے۔

تمام فریقین سے توازن اور دوغلی سیاست کا مکروہ کھیل

رپورٹ کے مطابق فضل الرحمان کو پاکستانی سیاست کا ایک کلاسک پاور بروکر سمجھا جاتا تھا جو جانتا تھا کہ آنے والے انتخابات میں اس کے پاس کتنے اہم پتے موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وہ ہر طرف سے تعلقات استوار رکھتے اور فوائد سمیٹتے تھے، جن میں قبائلی علاقوں اور افغانستان کی سرحد پار موجود طالبان حامی عناصر بھی شامل ہیں۔

اس بات کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے اس وقت جلاوطن کیے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے بھی سعودی عرب میں ملاقات کی تھی، جو وہاں عمرہ کی ادائیگی اور اپوزیشن رہنماؤں کی سرگرمیوں کے سلسلے میں موجود تھے۔

مزید پڑھیں:فضل الرحمان کی 40 سالہ ‘موجیں’! کس کس عہدے پر مزے کیے؟ خواجہ آصف نے مولانا کا کٹا چٹھا بھرے ایوان میں کھول دیا

سیاسی مصلحتوں اور اقتدار کی ہوس

سفارتی اسناد کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کس طرح اندرون و بیرونِ ملک اپنے مفادات کے حصول کے لیے دہرے معیار اپناتے رہے ہیں۔

بظاہر مغربی پالیسیوں اور عسکری کارروائیوں کی سخت لفظوں میں مخالفت کرنے کے باوجود پشت پر مغربی سفارت کاروں سے رابطے رکھنا اور حکومت وقت سے سودے بازی کرنا اس بات کا غماز ہے کہ اصولوں کی سیاست پر ہمیشہ ذاتی اور خاندانی اقتدار کو ترجیح دی گئی۔

اس نوعیت کے تاریخی انکشافات اس بات کو بے نقاب کرتے ہیں کہ جب تک سیاست میں موقع پرستی اور دوغلا پن رہے گا ملک اور عوام حقیقی فلاح و بہبود سے محروم رہیں گے۔

Related Articles