چھوٹے میاں کے دورِ وزارت میں 20 ارب 85 کروڑ کی بے ضابطگیاں اسعد محمود نے 3 کی اجازت لیکر 5 بنک اکاونٹس کیوں کھلوائے؟ نیا پنڈورا باکس کھل گیا

چھوٹے میاں کے دورِ وزارت میں 20 ارب 85 کروڑ کی بے ضابطگیاں اسعد محمود نے 3 کی اجازت لیکر 5 بنک اکاونٹس کیوں کھلوائے؟ نیا پنڈورا باکس کھل گیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیرِ مواصلات مولانا اسعد محمود کے دورِ وزارت میں پاکستان پوسٹ کے بینکنگ معاملات سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں 20 ارب 85 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی نے وزارتِ مواصلات کے مالیاتی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کمرشل بینکوں کے ساتھ غیر مجاز انتظامی معاملات کے عنوان سے یہ رقم سامنے آئی، جبکہ پاکستان پوسٹ کے بینک اکاؤنٹس کھولنے اور ان کے ذریعے لین دین کرنے کے طریقۂ کار پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ 

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق رپورٹ میں مالی سال 2022-23 کے لیے مجموعی طور پر 222 ارب 6 کروڑ 66 لاکھ 88 ہزار روپے کے آڈٹ اعتراضات درج کیے گئے۔ اس رقم میں مختلف نوعیت کی بے ضابطگیاں، مالی وصولیوں سے متعلق معاملات اور دیگر اعتراضات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کمرشل بینکوں کے ساتھ اکاؤنٹس کے انتظام سے متعلق بے ضابطگیوں کا حجم 20 ارب 85 کروڑ 57 لاکھ 21 ہزار روپے بتایا گیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ کے بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں فنانس ڈویژن نے 25 جون 2021 کو نیشنل بینک آف پاکستان میں تین اکاؤنٹس کھولنے کی منظوری دی تھی، تاہم محکمہ نے مبینہ طور پر پانچ اکاؤنٹس کھول لیے۔ یوں منظور شدہ تعداد سے دو اکاؤنٹس زیادہ کھولے گئے۔ رپورٹنگ کے مطابق ان اضافی اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً 20 ارب روپے کے لین دین کا معاملہ بھی آڈٹ کی جانچ پڑتال میں سامنے آیا۔

یہ معاملہ محض اکاؤنٹس کی تعداد تک محدود نہیں، بلکہ اس بات سے بھی متعلق ہے کہ سرکاری محکمے نے مالیاتی منظوریوں اور مقررہ قواعد کی پابندی کس حد تک کی۔ جب کسی محکمے کو مخصوص تعداد میں اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی جائے تو اس سے تجاوز کرنے کی وجوہات، متعلقہ منظوریوں اور ان اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والے لین دین کی مکمل تفصیلات سامنے لانا ضروری ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسعد محمود نے وزارت کی بجائے جے یو آئی آفس کو بھرتی سینٹر بنایا، بھرتیوں کی مد میں 2 ارب 73 کروڑ کی بے ضابطگیوں نے فضل الرحمان اینڈ سنز کا کچا چھٹا کھل گیا

مولانا اسعد محمود مالی سال 2022-23 کے دوران وفاقی وزیرِ مواصلات تھے۔ اس لیے ان کے دورِ وزارت میں وزارت اور اس سے منسلک محکموں کے مالیاتی انتظام، نگرانی اور داخلی کنٹرول کے نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔ تاہم، دستیاب آڈٹ رپورٹنگ میں 20 ارب 85 کروڑ روپے کی بے ضابطگی کو اسعد محمود کی ذاتی وصولی قرار نہیں دیا گیا، نہ ہی دستیاب تفصیلات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے خود اکاؤنٹس کھولنے یا متعلقہ لین دین کا حکم دیا تھا۔ اس معاملے میں انفرادی ذمہ داری کا تعین متعلقہ منظوریوں، سرکاری ریکارڈ اور تحقیقات سے ہی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل پاکستان پوسٹ میں بھرتیوں کے معاملے پر بھی آڈٹ اعتراضات سامنے آئے تھے۔ منظور شدہ 3 ہزار 938 آسامیوں کے مقابلے میں 4 ہزار 252 افراد کی بھرتیوں کا ذکر رپورٹنگ میں کیا گیا، جبکہ بھرتیوں سے متعلق چار معاملات میں 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی۔ اس کے علاوہ پانچ خریداری کے معاملات میں 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر ہے۔ یہ الگ الگ آڈٹ زمروں سے متعلق اعداد ہیں، جن کی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ ریکارڈ کی جانچ سے ہونا چاہیے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ فنانس ڈویژن کی منظوری کے باوجود اضافی بینک اکاؤنٹس کس اختیار کے تحت کھولے گئے، ان کے ذریعے ہونے والے تقریباً 20 ارب روپے کے لین دین کی نوعیت کیا تھی، اور ان معاملات کی نگرانی کے ذمہ دار افسران کون تھے؟ اسی طرح یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ آڈٹ اعتراضات پر محکمہ جاتی سطح پر کیا کارروائی ہوئی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کی نشاندہی کے بعد رقم کی وصولی یا ذمہ داری کے تعین کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے۔

وزارتِ مواصلات اور پاکستان پوسٹ کے متعلقہ حکام سے ان سوالات کے جواب طلب کیے جانے اور آڈٹ اعتراضات کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ مولانا اسعد محمود کے دورِ وزارت میں سامنے آنے والے ان مالی معاملات پر شفاف تحقیقات ہی واضح کر سکتی ہیں کہ بے ضابطگیاں کس سطح پر ہوئیں، انتظامی ناکامی کہاں ہوئی اور قانون کے مطابق ذمہ داری کن افراد پر عائد ہوتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles