جمہوریت اور اصول پسندی کا نام نہاد چہرہ سجا کر ملکی سیاست میں دہائیاں گزارنے والے مخدوم جاوید ہاشمی اور ان کے خاندانی نیٹ ورک کے خلاف نیب (NAB) اور اینٹی کرپشن کی میگا انکوائریز کے سنسنی خیز دستاویزی حقائق سامنے آ گئے ہیں۔
ایک طرف ٹی وی اسکرینز پر بیٹھ کر ایمانداری اور ضمیر کے بھاشن دینے والے جاوید ہاشمی پردے کے پیچھے اپنے آبائی شہر ملتان میں غریبوں کی زمینوں پر قبضوں، کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری، اور کاٹن جننگ فیکٹریوں کی آڑ میں بینک ڈیفالٹ جیسے غیر قانونی دھندوں میں براہِ راست ملوث پائے گئے ہیں۔ اس میگا اثاثہ جات اور خاندانی لوٹ مار اسکینڈل پر تیار کی گئی تفصیلی نیوز رپورٹ درج ذیل ہے:
قومی احتساب بیورو (نیب) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق، جاوید ہاشمی کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے کہیں زیادہ اربوں روپے کے بے نامی اثاثے بنانے کی باقاعدہ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جے یو آئی (ف) اور ن لیگ کے مختلف ادوار میں اہم عہدوں اور وفاقی وزارتوں پر قابض رہ کر مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا بدترین ناجائز استعمال کیا۔
انہوں نے ملتان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں غریب کاشتکاروں اور زمینداروں کی قیمتی زرعی اراضی پر دباؤ ڈال کر اور پٹواری سسٹم میں مبینہ ہیر پھیر کر کے سستے داموں قبضے کیے اور بعد میں ان زمینوں کو غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں اور کمرشل پراجیکٹس میں تبدیل کر کے غریب الاٹیز سے اربوں روپے بٹورے۔
صرف زمینوں پر قبضے ہی نہیں بلکہ جاوید ہاشمی کے خاندانی کاروباری نیٹ ورک بشمول کاٹن جننگ فیکٹریوں اور آئل ملوں کا کالا کٹھا بھی کھل گیا ہے۔ ایف بی آر (FBR) کے مانیٹرنگ سیلز کی دستاویزات کے مطابق، ان فیکٹریوں سے حاصل ہونے والے کروڑوں روپے کے منافع اور زرعی آمدن کو سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں (Tax Returns) میں سرعام چھپایا گیا جو کہ بدترین ٹیکس چوری کے زمرے میں آتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ان صنعتی یونٹس کو چلانے کے لیے نشنل بینک اور دیگر سرکاری بینکوں سے بھاری لون (Loans) حاصل کیے گئے، جنہیں بعد میں سیاسی دباؤ اور ڈیلز کے ذریعے مبینہ طور پر معاف (Wave Off) کرایا گیا، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں کا ٹیکہ لگا۔
سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے جاوید ہاشمی کی اس منافقانہ سیاست پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی کا ن لیگ سے پی ٹی آئی اور پھر دوبارہ ن لیگ کی طرف مائل ہونے کا سفر کسی نظریے کے لیے نہیں، بلکہ خالصتاً ایک “سیاسی دھندا” تھا تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی نیب انکوائریوں سے بچ سکیں اور اپنی بیٹی میمونہ ہاشمی کے سیاسی و مالی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور تحقیقاتی اداروں نے جاوید ہاشمی کے تمام خفیہ بینک اکاؤنٹس اور فیکٹریوں کے ریکارڈز کو باقاعدہ فلیگ کرتے ہوئے ان کے خلاف کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔