قومی احتساب بیورو (نیب) کی شکایت کنندہ کمیٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان، ان کے اہل خانہ اور فرنٹ مینز کے اربوں روپے کے نامی اور بے نامی اثاثوں پر باقاعدہ انکوائری کی منظوری کی سفارش کر دی گئی ہے۔
قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت تیار کردہ دستاویزات کے مطابق مولانا فضل الرحمان پر بنوں روڈ پر بھائیوں کے لیے بنگلے بنانے، شوگر مل کے قیام اور 300 کنال زرعی زمین حاصل کرنے کے الزامات ہیں۔
نیب دستاویز میں اثاثوں سے متعلق ابتدائی الزامات
دستاویز کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے خلاف قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت اثاثوں سے متعلق شکایات اور الزامات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ابتدائی الزامات میں بنوں روڈ پر ان کے بھائیوں کے لیے بنگلے تعمیر کرانے، شوگر مل حاصل کرنے، 300 کنال زرعی اراضی کے حصول اور ڈیرہ اسماعیل خان کی موضع رتہ کلاچی میں سرکاری ملکیت کی زرعی زمین مبینہ طور پر اپنے نام منتقل کرانے کے دعوے شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں:دین کی آڑ میں پلاٹوں اور سرکاری گھروں کا ہولناک دھندہ، ہاؤسنگ منسٹری میں بھی فضل الرحمٰن کے کرپشن نیٹ ورک پکڑا گیا
اس کے علاوہ موضع رٹہ کلاچی میں واقع حکومت کی ملکیت زرعی اراضی کو غیر قانونی طور پر اپنے نام منتقل کروانے کے سنگین اقدام بھی نیب کی شکایت کا حصہ ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں جائیداد
نیب کی فہرست کے مطابق ابتدائی تحقیقات اور ڈپٹی کمشنر آفس ڈیرہ اسماعیل خان کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے نام پر عبد ل خیل پہاڑ پور میں 15 لاکھ روپے مالیت کا ایک مکان موجود ہے۔
اس کے ساتھ شور کوٹ ڈیرہ اسماعیل خان میں 25 لاکھ روپے کا مکان، اس سے ملحقہ 7 لاکھ روپے مالیت کا 5 کنال کا پلاٹ، جس پر مزید 2 مکانات تعمیر کیے گئے ہیں، نیب کے ریکارڈ میں شامل ہیں۔
نیب کی 2018 کی دستاویزات کے مطابق فضل الرحمان کے پاس آج سے 8 سال قبل 9 لاکھ 50 ہزار روپے کے زیورات، 60 ہزار روپے کا فرنیچر اور الائیڈ بینک اکاؤنٹ نمبر 139-5 میں 20 لاکھ 50 ہزار 312 روپے درج ہیں، جو 2017 میں الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے گئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کی رپورٹ کے مطابق شور کوٹ میں ان کی 47 کنال 4 مرلہ اراضی ہے، جس میں 4 کنال 19 مرلہ غیر ممکن کالونی اور 32 کنال درسگاہ کے طور پر درج ہے۔
اہل خانہ اور رشتہ داروں کے نام پر اثاثے
مولانا فضل الرحمان کے بھائی لطف الرحمان کے نام 3 کنال 7 مرلہ اور عطا الرحمان کے نام 13 مرلہ زمین ریکارڈ کی گئی ہے۔
13 سال قبل کی دستاویزات کے مطابق لطف الرحمان کے نام 2013 میں درآمد شدہ لینڈ کروزر پراڈو بھی درج ہے، جس کی تخمینہ مالیت تقریباً 60 لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
تحقیقات اور بنامی اثاثوں کا مزید انکشاف
یہ کیس پچھلے بورڈ اجلاسوں سے گزرتا ہوا 23 جولائی 2020 کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جہاں نیب ہیڈکوارٹرز کو باقاعدہ انکوائری کے لیے بھیجنے کی تجویز دی گئی۔
مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر بنامی اثاثوں کی کھوج کے لیے مزید تحقیقات کی گئیں، جس میں معتبر ذرائع سے مولانا فضل الرحمان اور ان کے فرنٹ مینز کے متعدد نئے اثاثے سامنے آئے ہیں۔
نئی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے نام پر ڈیرہ اسماعیل خان میں 2 مکانات اور 1 پلاٹ، ایف-8 اسلام آباد میں ایک بنگلہ اور پشاور، کراچی و کوئٹہ میں متعدد فلیٹس و دکانیں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 1 مکان اور 5 ایکڑ زمین، عبدل خیل میں 1 مکان، مدرسہ اور 5 ایکڑ زمین، شور کوٹ میں 1 مکان، مدرسہ اور 5 ایکڑ زمین، نیز دبئی میں 1 فلیٹ بھی سامنے آیا ہے۔
نیب رپورٹ کے مطابق چک شہزاد اسلام آباد میں سابق سینیٹر غلام علی اور ان کے بیٹے فیاض علی (مولانا فضل الرحمان کے داماد) کے ذریعے 3 ارب روپے کی زمین خرید کر بھاری منافع پر فروخت کی گئی۔
فرنٹ مینز کے نام پر کروڑوں کی اراضی
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے فرنٹ مینز کے نام 68 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کی 3640 کنال اراضی کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
جس میں گاؤں ہمت میں 300 ملین روپے کی 300 کنال زمین بشمول 100 کنال کا بنگلہ، بابر کچا میں 50 ملین کی 900 کنال اور رمک میں 35 ملین کی 350 کنال زمین شامل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تحصیل پہاڑ پور میں زمین کا بڑا ٹکڑا، موضع شیخ راجا میں 50 ملین کی 300 کنال، گڑھی رحمان میں 75 ملین کی 1500 کنال، گرڈ اسٹیشن یارق کے سامنے 64 ملین کی 160 کنال، موضع غلام کھوئی میں 62 ملین کی 125 کنال اور نواب اڈا موضع مریالی میں 50 ملین کا 5 کنال 2 مرلہ کا مارکیٹ ایریا شامل ہے۔
17 ہزار کنال سے زیادہ کی بے نامی ملکیت اور سرکاری اراضی الاٹمنٹ
حوالہ جات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں فرنٹ مینز کے ناموں پر 17 ہزار 192 کنال سے زیادہ کی اراضی اور اربوں کے اثاثے موجود ہیں۔
حاجی جلال خان وزیر کے نام 714 کنال 15.5 مرلہ، گل اصغر وزیر کے نام 16257 کنال اراضی (بشمول 107 کنال قبضے کی زمین)، جبکہ کرا کی ملکیت میں 221 کنال اراضی اور 2 بنگلے شامل ہیں، جو لطف الرحمان کے زیر استعمال ہیں۔
مزید پڑھیں:دین کے نام پر خاندانی لوٹ مار، فضل الرحمٰن کا ضمیر ننگا، پی ٹی سی ایل کا معمولی ملازم بھائی راتوں رات کمشنر بنوا لیا، پارسائی کا پردہ چاک ہوگیا
فرنٹ مینز کے ذریعے بدعنوانی کی تفصیلات کے مطابق 2006 میں رکھ زنڈانی میں 4000 کنال زرعی زمین الاٹ کروائی گئی جو 2007 میں منسوخ ہوئی۔
2006 میں رکھ کیپٹن کرنل شیر خان شہید میں 1200 کنال الاٹ ہوئی جو نیب انکوائری کے باعث محکمہ زراعت کی تحویل میں ہے۔
اس کے علاوہ 2011 میں محکمہ جنگلات کی 600 کنال اراضی 45,000 روپے فی کنال مارکیٹ ویلیو کے برعکس صرف 375 روپے فی کنال پر ماڈل فارمز کے نام الاٹ کرائی گئی، جو بعد میں 2012 سے 2014 کے درمیان نیب کی کارروائی کے خوف سے واپس کی گئی۔
قانون، احتساب اور معاشی اثرات


