خیبرپختونخوا پولیس جدید ٹیکنالوجی سے لیس، دہشتگردوں کی شامت آگئی، نیا جدید ترین نظام فعال

خیبرپختونخوا پولیس جدید ٹیکنالوجی سے لیس، دہشتگردوں کی شامت آگئی، نیا جدید ترین نظام فعال

خیبرپختونخوا پولیس نے صوبے بھر میں اینٹی ڈرون نظام اور نگرانی کے ڈرونز کو سیف سٹی پشاور کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کردیا ہے، جس کے بعد دہشتگردی کے خلاف پولیس اور محکمہ انسداد دہشتگردی کے آپریشنز کی براہ راست نگرانی ممکن ہوگئی ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس نے جدید فضائی ٹیکنالوجی میں تربیت یافتہ خصوصی یو اے وی ڈویژن بھی قائم کردیا ہے۔

خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے اور سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اہم پیش رفت کی ہے۔

صوبے میں نصب اینٹی ڈرون سسٹمز اور پولیس کے نگرانی کرنے والے ڈرونز کو سیف سٹی پشاور کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ساتھ مربوط کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا پولیس کو جدید سازوسامان سے لیس کرنے کا عزم، 10 ایمبولینسز اور 8 اے پی سیز مختلف ریجنز کے حوالے

اس اقدام کے بعد صوبے کے کسی بھی علاقے میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کیے جانے والے آپریشنز کی فضائی نگرانی ممکن ہوگئی ہے۔

آپریشن کے دوران پولیس ڈرونز سے حاصل ہونے والی براہ راست ویڈیو اور نگرانی کی معلومات مرکزی مرکز تک پہنچائی جاسکیں گی، جہاں سے اعلیٰ پولیس حکام زمینی صورت حال کا جائزہ لے سکیں گے۔

اس نظام میں سیف سٹی کیمروں، اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اور نگرانی کے ڈرونز کو ایک مرکزی نیٹ ورک کے تحت یکجا کیا گیا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں جاری کارروائیوں کے دوران معلومات کی بروقت ترسیل اور اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

دشمن ڈرونز کی بروقت نشاندہی اور انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت

سیف سٹیز منصوبے کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اعجاز احمد نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں نصب اینٹی ڈرون نظام کو مرکزی مرکز سے منسلک کردیا گیا ہے۔

ان کے مطابق جدید نظام کے ذریعے مشتبہ اور دشمن کواڈ کاپٹرز اور دیگر ڈرونز کی بروقت نشاندہی کے ساتھ انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت بھی حاصل ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ جدید اینٹی ڈرون نظام پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں نصب کیے جاچکے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبے کے دور دراز اور حساس علاقوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کو اینٹی ڈرون گنز بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ ابھرتے ہوئے فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنائی جاسکے۔

ڈی آئی جی اعجاز احمد کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد دہشتگردوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کواڈ کاپٹرز اور دیگر ڈرونز سے ممکنہ خطرات کی بروقت شناخت اور ان کی روک تھام ہے۔

کسی بھی علاقے میں آپریشن کی ویڈیو مرکزی مرکز تک پہنچے گی

ڈی آئی جی اعجاز احمد نے بتایا کہ اب صوبے کے کسی بھی علاقے میں پولیس آپریشن کے دوران نگرانی کرنے والے ڈرونز سے حاصل ہونے والی براہ راست ویڈیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر منتقل کی جاسکے گی۔

اس نظام کے تحت اعلیٰ پولیس افسران آپریشن کے دوران زمینی صورت حال سے مسلسل باخبر رہیں گے اور ضرورت کے مطابق فیلڈ میں موجود اہلکاروں کو بروقت معاونت فراہم کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں:فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا پولیس شہدا کے لیے تاریخی ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ، شہادت پر ایک کروڑ 70 لاکھ سے ساڑھے 3 کروڑ روپے تک معاوضہ

انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے پولیس اور سی ٹی ڈی کے مختلف علاقوں میں جاری آپریشنز کی نگرانی، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی رابطوں میں بہتری آئے گی۔

مرکزی نگرانی کا یہ نظام پولیس قیادت کو مختلف مقامات پر جاری کارروائیوں کی صورت حال ایک ہی جگہ سے دیکھنے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر بروقت فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

انٹرنیٹ کی عدم دستیابی بڑا چیلنج، سپارکو سے رابطہ

ڈی آئی جی اعجاز احمد نے اعتراف کیا کہ صوبے کے بعض دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی جدید نگرانی کے نظام کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔

ان کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے سپارکو (خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن) کے تعاون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دور دراز علاقوں میں مواصلاتی رابطوں کی کمی کے باعث مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تک براہ راست ویڈیو اور معلومات کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے جدید نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے قابل اعتماد مواصلاتی رابطوں کی فراہمی بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی، اینٹی ڈرون نظام اور مرکزی کنٹرول کو یکجا کرنے سے پولیس کی آپریشنل صلاحیت، سیکیورٹی نگرانی اور دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پولیسنگ کے نظام کو جدید، مربوط اور زیادہ مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور سیف سٹیز منصوبہ اس مقصد کے لیے خیبرپختونخوا پولیس کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

دہشتگردوں کی ڈرون ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی یو اے وی ڈویژن قائم

دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس نے بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں یعنی یو اے وی کی جدید ٹیکنالوجی میں تربیت یافتہ اہلکاروں پر مشتمل خصوصی انسانی وسائل کا ڈویژن بھی قائم کردیا ہے، جسے دہشتگردوں کی بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ ڈویژن ابتدائی طور پر ایک تصور کے طور پر سامنے آیا تھا، تاہم دہشت گردوں کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے اور روایتی زمینی لڑائی سے فضائی حملوں کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث اسے عملی شکل دی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق دہشتگردوں کی جانب سے ڈرونز کا استعمال اب صرف نگرانی یا معلومات اکٹھی کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض صورتوں میں ان کے ذریعے بارودی مواد یا گولہ بارود گرانے اور اجتماعی فضائی حملوں کی کوششیں بھی سامنے آرہی ہیں۔

اسی بدلتے ہوئے خطرے کے پیش نظر خیبرپختونخوا پولیس نے ایسے اہلکاروں کی خصوصی تربیت کا انتظام کیا ہے جو جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور اس سے وابستہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جدید ڈرون آپریشنز اور الیکٹرانک وارفیئر میں تربیت

خصوصی یو اے وی ڈویژن کے اہلکاروں کو جدید ڈرون آپریشنز، فضائی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات کے حصول، انسداد دہشتگردی، حساس تنصیبات کے تحفظ اور خطرناک آپریشنز میں بغیر پائلٹ فضائی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ان اہلکاروں کی صلاحیتیں صرف نگرانی کے لیے ڈرون چلانے تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہیں دشمن ڈرونز کے خلاف الیکٹرانک وارفیئر کی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے یہ محسوس کیا کہ صرف جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کافی نہیں، بلکہ ان آلات کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت بھی ضروری ہے۔

اسی ضرورت کے تحت خصوصی ڈویژن قائم کیا گیا ہے، جس کے اہلکار نگرانی کے ساتھ ساتھ دشمن یو اے وی سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق یہ ملک میں کسی پولیس محکمے کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا خصوصی ڈویژن ہے۔

دہشتگردی کا بدلتا انداز اور پولیسنگ کے نئے تقاضے

خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشتگردی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دوران شدت پسند عناصر کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے سیکیورٹی اداروں کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں۔

ماضی میں دہشتگردی کے بیشتر واقعات میں زمینی حملوں، گھات لگا کر کارروائیوں اور روایتی ہتھیاروں کا استعمال نمایاں رہا، تاہم اب بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں کی دستیابی نے سیکیورٹی کے تقاضوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ڈرونز کے ذریعے نگرانی، حساس مقامات کی معلومات جمع کرنے اور حملوں کی کوششوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت سے دوچار کردیا ہے۔

مزید پڑھیں:وفاق کا عزم، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ، خیبر پختونخوا پولیس کو 10 بکتر بند گاڑیاں دے دیں، محسن نقوی

ایسے حالات میں جدید نگرانی کے نظام، تربیت یافتہ اہلکاروں اور مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے درمیان رابطہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے پولیس کی آپریشنل صلاحیت میں اضافے کی توقع

خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے اینٹی ڈرون نظام، نگرانی کے ڈرونز اور خصوصی یو اے وی ڈویژن کا قیام سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

مرکزی نگرانی کے ذریعے پولیس حکام کو مختلف علاقوں میں جاری کارروائیوں کی صورت حال سے آگاہی حاصل ہوگی، جبکہ تربیت یافتہ اہلکاروں کی موجودگی سے ڈرون ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہونے کی توقع ہے۔

تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار صرف جدید آلات کی تنصیب پر نہیں ہوگا۔ دور دراز علاقوں میں مواصلاتی رابطوں کی فراہمی، اہلکاروں کی مسلسل تربیت، تکنیکی نظام کی دیکھ بھال اور مختلف سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔

اگر ان تمام پہلوؤں پر مسلسل توجہ دی جائے تو خیبرپختونخوا پولیس کا یہ اقدام صوبے میں انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں، حساس مقامات کے تحفظ اور جدید پولیسنگ کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

Related Articles