شمالی وزیرستان اور لکی مروت میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کواڈ کاپٹر ڈرون حملے، 1 شہری شہید، متعدد مکانات جزوی تباہ

شمالی وزیرستان اور لکی مروت میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کواڈ کاپٹر ڈرون حملے، 1 شہری شہید، متعدد مکانات جزوی تباہ

شمالی وزیرستان اور لکی مروت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے نتیجے میں 1 شہری شہید اور متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں حرموز میں گزشتہ رات کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے کواڈ کاپٹر ڈرون کے ذریعے 6 حملے کیے گئے۔

ان پے در پے ڈرون حملوں کے نتیجے میں متعدد رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ دھماکوں کے باعث پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

مقامی آبادی نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے ان حملوں کے بعد شہریوں کے شہید ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، تاہم انتظامی سطح پر تاحال کسی جانی نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب لکی مروت میں بھی کالعدم ٹی ٹی پی سے منسوب کواڈ کاپٹر ڈرون حملے کا ایک الگ اور سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قلات، جدید ترین ٹیکنالوجی سے دہشتگردوں کی ڈرون حملے کی کوشش ناکام، فورسز نے آپریٹر کو موقع پر ہی ڈھیر کردیا

سوشل میڈیا ایکس پر وائرل پوسٹ کے مطابق لکی مروت میں ڈرون کے ذریعے ایک رہائشی مکان کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں یاسین نامی شخص موقع پر ہی شہید ہو گیا۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی اور جنوبی اضلاع میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے کمبٹ کواڈ کاپٹرز اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران شدت پسندوں نے روایتی گوریلا کارروائیوں اور سڑک کنارے بم دھماکوں کے بجائے فضائی حملوں اور گراؤنڈ مانیٹرنگ کے لیے ڈرونز کا سہارا لینا شروع کیا ہے۔

مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا پولیس کا جدید ٹیکنالوجی کی جانب بڑا قدم، مشکوک ڈرونز کی نگرانی کے لیے اینٹی ڈرون سسٹم متعارف

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ سرحد پار سے ملنے والی جدید تکنیکی معاونت اور تجارتی ڈرونز میں ترمیم کر کے ان کو بارود بردار بنانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

دہشتگردوں کی جانب سے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے شہری آبادیوں اور مکانات کو نشانہ بنانا روایتی سیکیورٹی فریم ورک کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

شمالی وزیرستان اور لکی مروت میں سامنے آنے والے یہ تازہ واقعات اس امر کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں کہ حساس اضلاع میں ایئر ڈیفنس اور الیکٹرانک وارفیئر کے سسٹمز کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ شہریوں کے جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Related Articles