عمران خان کے “ٹائیگرز” کا معصوم مریضوں کی ادویات پر شب خون، جعلی دستاویزات کے ذریعے 30 کروڑ ہڑپ کرنے والا پی ٹی آئی ورکر دھر لیا گیا
Home - آزاد انتخاب - عمران خان کے “ٹائیگرز” کا معصوم مریضوں کی ادویات پر شب خون، جعلی دستاویزات کے ذریعے 30 کروڑ ہڑپ کرنے والا پی ٹی آئی ورکر دھر لیا گیا
محکمہ صحت کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل (MCC) میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور میگا کرپشن اسکینڈل میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں نیب کی ٹیم کی جانب سے عمران خان کے “ٹائیگرز” کا معصوم مریضوں کی ادویات پر شب خون، جعلی دستاویزات کے ذریعے 30 کروڑ ہڑپ کرنے والا پی ٹی آئی ورکر دھر لیا گیاM گرفتار مرکزی ملزم کو احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کر دیا ہے۔
احتساب عدالت پشاور میں ہونے والی اس اہم سماعت کے دوران نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ اور کیس کے تفتیشی افسر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد حامد مغل نے کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزم عرفان الحق کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے اور تفتیشی ٹیم کو حکم دیا کہ ملزم کو 7 نومبر 2026ء کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم عرفان الحق پر جعلی دستاویزات اور بوگس کاغذات کے ذریعے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل (MCC) میں کوالیفائی کرنے کا سنگین الزام ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ سروسز شوکت علی کے ساتھ مبینہ ملی بھگت اور گٹھ جوڑ کر کے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔
عدالت میں نیب کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزی حقائق کے مطابق ملزم عرفان الحق کی فرنٹ فرم کو قواعد و ضوابط کو ہوا میں اڑا کر 300 ملین (30 کروڑ) روپے کے 5 بڑے پرچیز آرڈرز جاری کیے گئے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن طور پر، ملزم کو انتہائی ہنگامی بنیادوں پر صرف ایک ماہ کے مختصر عرصے کے اندر 300 ملین روپے کی مکمل اور یکمشت ادائیگی بھی کر دی گئی۔
نیب پراسیکیوٹر نے انکشاف کیا کہ پوری رقم پیشگی وصول کرنے کے باوجود ملزم نے محکمے کو 69.37 ملین (6 کروڑ 93 لاکھ) روپے مالیت کا طبی سامان اور ادویات سرے سے فراہم ہی نہیں کیں اور یہ خطیر رقم ہضم کر لی۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اس میگا خرد برد پر چیئرمین نیب نے 16 اپریل 2026ء کو ملزم عرفان الحق کے باقاعدہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جس کے بعد نیب کی خصوصی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ روز ملزم کو دھر لیا۔
نیب کی جانب سے ملزم سے مزید تفتیش اور کک بیکس کا سراغ لگانے کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی، تاہم عدالت نے ملزم کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے نیب حکام کے حوالے کر دیا۔
گرفتار ملزم سہیل آٖفریدی کا قریبی ساتھی اور پی ٹی آئی کا خاص ورکر ہے جس نے باہمی ملی بھگت سے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا تھا۔