خیبرپختونخوا میں طویل عرصے تک اقتدار کے مزے لوٹنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نالائق اور نعرہ باز حکومت کے خاتمے اور صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور سمیت پورے صوبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔
طویل عرصے تک حکمرانوں کی غفلت اور بدانتظامی کے باعث کھنڈر اور کچرے کا ڈھیر بننے والے صوب دارالحکومت کی صفائی کے لیے اب دن رات تیزی سے کام جاری ہے۔
گورنر راج لگنے کے بعد ذمہ داریاں سنبھالنے والی انتظامیہ خصوصاً قرۃ العین وزیر نے پشاور کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے، جس پر عوامی حلقوں کی طرف سے شدید سکھ کا سانس لیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں صرف دھرنوں، انتشار اور صوبے کے وسائل لوٹنے کے علاوہ پشاور کے باسیوں کو گندگی، ٹریفک کے مسائل اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
برسوں تک کے پی پر قابض رہنے والی جماعت نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا اور صفائی کے نظام کا جنازہ نکال دیا تھا۔
اب جبکہ صوبے میں گورنر راج نافذ ہو چکا ہے اور عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے، پشاور کی سڑکوں اور محلوں سے غلافت کے ڈھیر اٹھانے کے لیے دن رات تیزی سے کام جاری ہے۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ خیبرپختونخوا کو اس کا کھویا ہوا حسن واپس دلایا جائے گا اور پشاور کو ایک بار پھر پھولوں اور خوبصورتی کا شہر بنایا جائے گا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اس صوبے کو جس طرح کھنڈر میں تبدیل کیا تھا، اس کے بعد اب اصل ترقی اور صفائی کا کام دیکھ کر عوام کو اندازہ ہو رہا ہے کہ نااہل حکمرانوں نے ان کا کتنا قیمتی وقت ضائع کیا۔