امریکی ریاست فلوریڈا کی پام بیچ کاؤنٹی میں نجی طیارہ گر کر تباہ ہونے سے متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر شدید آگ بھڑک اٹھی اور علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مقامی حکام نے حادثے کو بڑے جانی نقصان کا واقعہ قرار دیا ہے۔ تاہم طیارے میں سوار افراد کی حتمی تعداد اور ہلاکتوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
یہ حادثہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار اے لاگو سے تقریباً سات میل کے فاصلے پر پیش آیا۔
اچانک زمین کی طرف غوطہ
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے نے ٹیکساس کے آسٹن برگسٹروم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بہاماس کے لیے پرواز شروع کی تھی۔
پرواز کے دوران طیارے نے اچانک دائیں جانب رخ تبدیل کیا۔ اس کے بعد تقریباً 8 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی کے ساتھ زمین کی طرف گرنے لگا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار طیارہ لئیرجیٹ 60 تھا۔ اس کی مالیت تقریباً 20 لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
خوفناک دھماکا اور آگ
امریکی میڈیا کے مطابق زمین پر گرنے سے پہلے طیارہ ایک درخت سے ٹکرایا۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی تاریں بھی ٹوٹ کر گر گئیں۔
طیارے کے زمین سے ٹکرانے کے بعد زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور تک سنی گئی۔ حادثے کے مقام پر آگ کے بڑے شعلے بلند ہوئے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں جائے وقوعہ پر تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ طیارے کے گرنے سے زمین میں بڑا گڑھا پڑ گیا جبکہ اطراف میں آگ پھیل گئی۔
متعدد ہلاکتوں کا خدشہ
پام بیچ کاؤنٹی فائر ریسکیو نے حادثے کو بڑے جانی نقصان والا واقعہ قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق طیارے میں کتنے افراد سوار تھے، اس حوالے سے فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ زمین پر موجود افراد کے زخمی یا ہلاک ہونے کی صورتحال بھی واضح نہیں ہوسکی۔
حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔ حکام کی جانب سے جانی نقصان اور حادثے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔