متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے باقاعدہ تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے 29 نومبر کو شارع فیصل کی جانب بڑے قافلے کی صورت میں مارچ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا سب سے مضبوط مقدمہ سندھ کے شہری علاقوں کا ہے اور ملک میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت بھی یہیں نئے صوبے کی ہے ن کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نئے صوبوں کی تحریک کی قیادت کرے گی اور عوامی حقوق کے حصول کے لیے اب سڑکوں پر نکلا جائے گا۔
پی آئی بی میں کارکنوں کا بڑا اجتماع
خالد مقبول صدیقی نے ان خیالات کا اظہار پی آئی بی کالونی کے کے ایم سی گراؤنڈ میں جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں صوبے کا مطالبہ موجود ہے اور آبادی کے تناسب سے ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہاں نئے صوبے قائم کیے جانے چاہئیں۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا سب سے مضبوط مقدمہ سندھ کے شہری علاقوں کا ہے اور اس وقت ملک میں سب سے زیادہ ضرورت بھی اسی خطے میں نئے صوبے کی ہے۔
اپنی زمینیں پاکستان کے نام پر قربان کیں
چیئرمین ایم کیو ایم نے نئے صوبے کے لیے زمین کے سوال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کا صوبہ کہاں بنے گا، انہیں ہمارا جواب ہے کہ ہم اپنے حصے کی زمین ساتھ لے کر آئے تھے۔ ہم نے ہندوستان میں اپنی زمینیں پاکستان کے نام پر قربان کیں،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیدادیں قانونی طور پر ہماری ہیں۔
29 نومبر کو شارع فیصل کی جانب مارچ
خالد مقبول صدیقی نے اعلان کیا کہ نومبر کے آخری اتوار، یعنی 29 نومبر کو ایم کیو ایم کا بڑا قافلہ شارع فیصل کی جانب روانہ ہوگاانہوں نے کہا کہ قافلے کے نکلتے ہی شارع فیصل جانے والے تمام راستے مسدود ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان ایم کیو ایم کی جانب دیکھ رہا ہے اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت اور دھمکیاں دینے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں دھمکانے آ رہے ہیں، نومبر کو ستم گر بنا دیں گے۔
سانحات کے باوجود تحریک آگے بڑھتی رہی
چیئرمین ایم کیو ایم نے ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشکلات سے گزر چکے ہیں 30 ستمبر 1986 کو حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام ہوا، سانحہ سہراب گوٹھ اور سانحہ قصبہ علی گڑھ بھی پیش آئے، لیکن اس کے باوجود یہ تحریک نہیں رکی بلکہ آگے بڑھتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ پورے برصغیر میں ایم کیو ایم جیسی کوئی دوسری تحریک موجود نہیں ہمیں ایوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایوانوں کو ہماری ضرورت ہے ہم عوام کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے اور اب اپنی منزل حاصل کرکے دکھائیں گے۔
عوام تک اختیار اور اقتدار پہنچانے کا عزم
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا اختیار اور اقتدار عام عوام تک پہنچانا ایم کیو ایم کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے آئندہ اجتماع میں تحریک کے حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پی آئی بی کا گراؤنڈ چھوٹا پڑ گیا ہے، ابھی پوری طرح آواز بھی نہیں لگائی تھی۔ آج کا اجتماع اصل صف بندی کے لیے بلایا گیا ہے۔ یہ صف بندی ظالموں کے خلاف مظلوموں اور جابروں کے خلاف معصوموں کی صف بندی ہوگی۔
موروثی سیاست کے خاتمے کا مطالبہ
چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ ہمیں ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام عوام تک نہ پہنچیں۔ پاکستان سے چند خاندانوں کی حکمرانی ختم کرنا ہوگی اور ملک میں موروثی سیاست کی اب کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے،اجلاس میں شرکاء نے ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق خالد مقبول صدیقی کے مطالبے کی ہاتھ اٹھا کر حمایت بھی کی۔
کراچی سے اٹھنے والا نعرہ اسلام آباد تک جائے گا، وسیم اختر
اجلاس سے ایم کیو ایم کے سینئر رہنما وسیم اختر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ضلع شرقی کے کارکنوں کا اجلاس ہے، پورا کراچی ابھی یہاں موجود نہیں۔
وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ایک کنوینر ہوتا ہے جبکہ باقی سب کارکن ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ذمہ دار بداخلاق ہو تو کوئی اس کے ساتھ نہیں چلتا، لیکن اگر ذمہ دار کردار کا حامل ہو تو سب اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آ کر دیکھیں، یہ صرف ڈسٹرکٹ ایسٹ ہے، پورا کراچی نہیں۔ کراچی ایم کیو ایم کے ساتھ جڑ رہا ہے اور یہاں سے اٹھنے والا نعرہ اسلام آباد تک جائے گا۔
18ویں ترمیم سے عوام کو کیا ملا؟ فاروق ستار
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقدمہ پاکستان کے 26 کروڑ مظلوم عوام کا ہے، جن کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے۔ ہماری 45 سالہ جدوجہد رنگ لا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم سے پاکستان کی شرح نمو میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر نہیں، سڑکیں تباہ حال ہیں اور کچرا تک نہیں اٹھایا جا رہا۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ چار صوبے چند سو خاندانوں کی شراکت داری بن کر رہ گئے ہیں پاکستان بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کر رہا ہے، لیکن اب ملک کو اندرونی طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ چاروں صوبوں میں انتظامی بنیادوں پر مزید یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں۔
سندھ میں انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ
فاروق ستار نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 18 برسوں میں پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس زبان یا لسانیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں انہوں نے کہا کہ کراچی کے پختون، بلوچ، گلگتی اور بلتی سمیت تمام شہری الگ انتظامی یونٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انتظامی یونٹس سندھ کی ثقافت کے خلاف نہیں
فاروق ستار نے واضح کیا کہ انتظامی یونٹ بننے کے بعد بھی ہم سندھی ٹوپی، اجرک اور جناح ٹوپی پہنیں گے۔ انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی ثقافت یا زبان کے خلاف نہیں بلکہ عوام کو ان کے حقوق اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہےانہوں نے مزید کہا کہ وڈیروں اور جاگیرداروں نے کراچی ہی نہیں بلکہ لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور حیدرآباد کو بھی کیا دیا ہے؟فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس کے مطالبے پر فل اسٹاپ نہیں لگا بلکہ کرپشن اور بدمعاشی پر فل اسٹاپ لگنا چاہیے۔