شیشے کے گھر میں رہنے والوں کو دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں، یہ کہاوت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر خاص طور پر صادق آتی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف ان کے بڑھتے ہوئے متنازع سیاسی بیانات اور افغان طالبان کے مؤقف سے ان کی بظاہر ہم آہنگی نے ان کی ذاتی دولت، جائیدادوں اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال سے متعلق الزامات کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
پاک فوج پر تنقید اور افغانستان سے متعلق مؤقف
فضل الرحمان کی پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر تنقید اب سیاسی حدود سے آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہےپاک فوج کے خلاف ان کی حالیہ سیاسی محاذ آرائی میں انہوں نے حد سے تجاوز کیا ہے افغانستان کے حوالے سے ان کے حالیہ بیانات نے ان کی سیاسی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں، خصوصاً اس وقت جب وہ افغان طالبان کے مؤقف کا دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اسلام آباد اور کابل کے درمیان بگڑتے تعلقات کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔
افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بارے میں فضل الرحمان کا مؤقف بھی مسلسل متنازع ہوتا جا رہا ہے ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشت گردی اور تشدد کی کارروائیوں کی ذمہ دار تنظیم ہے، فضل الرحمان کے بیانات ایسی قوتوں کو سیاسی جواز فراہم کرتے ہیں جن کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان میں ہزاروں شہری اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ٹی ٹی پی حملے اور پاکستان کے سکیورٹی خدشات
صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سرحدی پالیسیوں پر ان کی مسلسل تنقید سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ وہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو حل کرنے کے بجائے افغان طالبان حکومت کے مؤقف کا دفاع کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
فضل الرحمان نے کھلے عام پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی ہے ان کا مؤقف ہے کہ تجارتی راستوں کی بندش سے افغان معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کی بھی مخالفت کی ہے اور دلیل دی ہے کہ افغان طالبان حکومت معاشی بحران کا شکار ہے اور پاکستان سے واپس آنے والے افغان شہریوں کا اضافی بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں،پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر جائز سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، خصوصاً افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور کارروائیوں کے حوالے سے،ٹی ٹی پی بارہا پاکستانی شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کر چکی ہے پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان انتظامیہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف پر سوالات
اس پس منظر میں کوئی بھی سیاسی رہنما اگر دوطرفہ تعلقات میں خرابی کی ذمہ داری مسلسل پاکستان پر عائد کرے اور اسلام آباد کے سکیورٹی خدشات کو نظرانداز کرے تو اس کے سیاسی مؤقف کی یکسانیت اور مطابقت پر جائز سوالات اٹھتے ہیں۔
فضل الرحمان کو آئین اور جمہوریت کے تحت حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے، فوجی قیادت سے اختلاف کرنے اور افغانستان کے حوالے سے متبادل حکمت عملی پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ تاہم سیاسی تنقید دہشت گردی کے تشدد کو نظرانداز کرنے یا پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو مسترد کرنے کا جواز نہیں بننی چاہیے۔
جے یو آئی کے اندر بھی اختلافات
رپورٹس کے مطابق ان مؤقفوں نے ان کی اپنی جماعت کے بعض حلقوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے بہت سے حامی اپنی جماعت کو پاکستان مخالف سیاسی تنظیم نہیں سمجھتے اور ایسے بیانات سے مطمئن نہیں ہیں جو بظاہر پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختار سرحدی پالیسیوں کے مقابلے میں افغان طالبان حکومت کے معاشی اور سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔نتیجتاً جے یو آئی (ف) کے پاکستان نواز عناصر مبینہ طور پر افغانستان کے معاملے پر فضل الرحمان کے بڑھتے ہوئے دوٹوک بیانات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
جائیدادوں اور مالی وسائل کی تحقیقات
اس سیاسی تنازع کے بعد صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے ایک معلوماتی مہم بھی شروع ہوئی ہے، جس میں فضل الرحمان کی جائیدادوں، مالی وسائل اور اسلام آباد کے مہنگے ترین رہائشی علاقوں میں مبینہ طور پر جمع کی گئی بھاری دولت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اب سامنے آنے والے سوالات محض سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ ان کا تعلق دولت کے ذرائع، جائیدادوں کی ملکیت، مبینہ بے نامی انتظامات، نجی گھریلو خدمات کے لیے سرکاری ملازمین کے استعمال اور جے یو آئی (ف) کی قیادت سے منسلک اداروں کی مالی معاونت سے بھی ہے۔
حالیہ میڈیا رپورٹس اور تحقیقاتی انکشافات میں متعدد الزامات عوام کے سامنے آئے ہیں۔ ان میں فضل الرحمان سے منسلک پرتعیش جائیدادیں، ڈرائیوروں اور قریبی ساتھیوں کے نام پر رجسٹرڈ زمینیں، اسلام آباد میں گھوڑوں کا ایک بڑا اصطبل، ان کی نجی رہائش گاہوں پر سرکاری خرچ سے تعینات گھریلو ملازمین اور پشاور میں مفتی محمود مرکز کی تعمیر کے لیے بیرون ملک سے حاصل ہونے والی مالی معاونت شامل ہیں۔
اسلام آباد میں قیمتی جائیدادیں
میڈیارپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں متعدد مہنگی جائیدادیں مبینہ طور پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے منسلک ہیں، جن میں سے بعض دوسرے افراد کے نام پر رجسٹرڈ بتائی جاتی ہیں۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی 6/4 میں واقع ایک جائیداد مبینہ طور پر امان اللہ نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے، تاہم اسے فضل الرحمان سے منسلک قرار دیا جاتا ہےاسی سیکٹر میں مکان نمبر 11، گلی نمبر 83 بھی زیر تعمیر بتایا جاتا ہے، جہاں احاطے کے اندر چار الگ الگ رہائشی یونٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں گلی نمبر 84 میں واقع ایک پرتعیش رہائش گاہ بھی فضل الرحمان سے منسلک کی جاتی ہے۔ رپورٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ مہنگی جائیداد انہیں مسٹر خان نامی ایک شخصیت نے تحفے میں دی تھی، جن کا تعلق سگریٹ سازی اور اسمگلنگ کے کاروبار سے بتایا جاتا ہے۔ یہ تحفہ مبینہ طور پر سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے عوض دیا گیا تھا۔
جائیدادوں کی اصل ملکیت کا سوال
رپورٹس کے مطابق یہ الزامات جائیدادوں کی حقیقی ملکیت، ان سے متعلق مالی لین دین اور اتنی مہنگی غیر منقولہ جائیدادوں کے حصول یا منتقلی کے حالات کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتے ہیں،اگر یہ جائیدادیں بے نامی انتظامات کے ذریعے رکھی گئی ہیں تو متعلقہ حکام کو ان کے اصل اور حقیقی مالکان کا تعین کرنا چاہیے اور یہ جانچنا چاہیے کہ آیا ایسے انتظامات متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کرتے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک مذہبی اور سیاسی رہنما، جس کا عوامی طور پر معروف پس منظر دینی تعلیم اور خطابت کا ہے، صرف اسلام آباد میں اتنی مہنگی جائیدادوں کے پورٹ فولیو سے کیسے منسلک ہو گیا؟
یہ معاملہ ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر مبینہ طور پر جمع کی گئی جائیدادوں اور اثاثوں کے علاوہ ہے۔ اسی طرح دینی مدارس سے منسلک دولت کے حوالے سے بھی الزامات موجود ہیں۔
مفتی محمود مرکز کو لیبیا سے مالی معاونت
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اور اہم معاملہ پشاور میں مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور اس کے لیے لیبیا سے حاصل ہونے والی مالی معاونت سے متعلق ہےرپورٹس اور ذرائع کے مطابق مفتی محمود مرکز، اس سے منسلک سہولیات اور دیگر تعمیرات کا کام لیبیا کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت کے ذریعے مکمل کیا گیا۔
مرکز کی پوری تعمیر لیبیا کی جانب سے براہِ راست مالی گرانٹس کے ذریعے کی گئی، خصوصی توجہ کا متقاضی ہے، کیونکہ عوام کے سامنے آنے والے مواد میں ان فنڈز کی شرائط، مالی ذرائع اور استعمال کی تفصیلات کی مناسب وضاحت نہیں کی گئی۔
لیبیا سے کتنی رقم آئی اور کہاں خرچ ہوئی؟
متعلقہ حکام کو یہ تعین کرنا چاہیے کہ کتنی مالی معاونت حاصل کی گئی، یہ رقوم کن تاریخوں میں منتقل ہوئیں، کن اداروں یا افراد کے ذریعے منتقل کی گئیں اور ان پیسوں کو کس طرح استعمال کیا گیایہ جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ آیا یہ مالی معاونت غیر مشروط گرانٹ کی صورت میں دی گئی تھی، کیا اس حوالے سے کوئی باضابطہ معاہدے کیے گئے تھے اور کیا پاکستانی قوانین کے تحت ان فنڈز کو درست طریقے سے ظاہر کرکے ان کا حساب کتاب رکھا گیا تھا۔
سوال یہ نہیں کہ کسی دینی ادارے کو جائز غیر ملکی مالی معاونت حاصل ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا بھاری غیر ملکی فنڈنگ کو قانونی تقاضوں کے مطابق دستاویزی شکل دی گئی، ظاہر کیا گیا اور استعمال کیا گیاسرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق الزامات صرف گھریلو ملازمین یا نجی سہولیات تک محدود نہیں ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری رہائشی مکانات، جو مستحق سرکاری ملازمین کے لیے مختص تھے، سیاسی اثرورسوخ اور غیر قانونی الاٹمنٹ کی زد میں رہے۔
ڈرائیوروں کے نام پر ہزاروں کنال اراضی
شاید سب سے سنگین الزامات میں سے ایک کم آمدنی والے ملازمین اور ذاتی ساتھیوں کو فرنٹ مین کے طور پر استعمال کرکے مہنگی جائیدادیں اور وسیع اراضی اپنے نام رکھنے کا ہےقومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات کا حوالہ دینے والی رپورٹس کے مطابق فضل الرحمان کے ذاتی ڈرائیور عبداللہ کے پاس مبینہ طور پر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہزار کنال سے زیادہ اراضی کی ملکیت کے کاغذات موجود ہیں۔
ایک اور ڈرائیور کے پاس مبینہ طور پر 400 کنال زمین ہے، جبکہ رؤف ماموں نامی ایک شخص کے پاس شورکوٹ میں 88 کنال اراضی ہونے کا الزام ہے۔
شاہ اللہ دتہ میں گھوڑوں کا بڑا اصطبل
ایک اور اہم معاملہ اسلام آباد کے علاقے شاہ اللہ دتہ میں فضل الرحمان کے زیر انتظام ایک بڑے گھوڑوں کے اصطبل سے متعلق ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس اور ذرائع کے ذریعے گردش کرنے والی معلومات کے مطابق اس اصطبل میں تقریباً دو درجن قیمتی گھوڑے موجود ہیں۔ تاہم اس سے بھی زیادہ سنگین الزام اس اصطبل کے انتظام اور دیکھ بھال سے متعلق ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود نے وفاقی وزیر کے عہدے پر رہتے ہوئے اپنے اثرورسوخ کے ذریعے جن سرکاری ملازمین کو بھرتی کرایا، انہیں اس اصطبل کے انتظام و انصرام سے متعلق فرائض سونپے گئے۔
گھوڑوں کی دیکھ بھال پر سرکاری وسائل کا استعمال
اگر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو اس سے نجی سہولت کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری ملازمین اور حکومتی وسائل کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھیں گےنیب کو یہ تعین کرنا چاہیے کہ گھوڑوں کا مالک کون ہے، ان کی خریداری اور دیکھ بھال کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے، اصطبل کا انتظام کون چلاتا ہے اور آیا سرکاری ملازمین کو غیر قانونی طور پر نجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ صرف قیمتی گھوڑوں کی ملکیت تک محدود نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا سرکاری ملازمین، جن کی تنخواہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کی جاتی ہیں، کو کسی نجی شخصیت کی خدمات کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
نجی رہائش گاہوں پر سرکاری ملازمین کی تعیناتی
شاید سب سے زیادہ تشویش ناک الزام اسلام آباد میں فضل الرحمان کی نجی رہائش گاہوں پر سرکاری ملازمین کی تعیناتی سے متعلق ہےذرائع کے مطابق ان کی مختلف رہائش گاہوں پر گھریلو عملے میں ڈرائیور، معاون ڈرائیور، باورچی، کپڑے دھونے والے ملازمین، نگراں، صفائی کرنے والے کارکن، سکیورٹی گارڈز اور حتیٰ کہ گاڑیوں کے دروازے کھولنے کے لیے تعینات افراد بھی شامل ہیںالزام یہ ہے کہ یہ تمام افراد سرکاری ملازمین ہیں، جنہیں جے یو آئی (ف) کی مختلف ادوار میں حکومت میں شمولیت کے دوران سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے بھرتی یا تعینات کرایا گیا۔
اسعد محمود اور کشمیر کمیٹی کا دور
ذرائع بالخصوص فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کے دور وزارت اور اس عرصے کا حوالہ دیتے ہیں جب فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے سرکاری عہدوں اور سرکاری اثرورسوخ کو ایسے افراد کی بھرتی کے لیے استعمال کیا گیا، جنہوں نے بعد ازاں جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے منسلک رہائش گاہوں پر گھریلو اور نجی نوعیت کی خدمات انجام دیں۔
سرکاری ملازمین کی تعیناتی سے متعلق چھ اہم سوالات
لہٰذا اس معاملے کی جامع تحقیقات ضروری ہیں تاکہ درج ذیل سوالات کے جوابات سامنے آ سکیں:
1۔ فضل الرحمان کی نجی رہائش گاہوں پر کتنے سرکاری ملازمین تعینات کیے گئے ہیں؟
2۔ انہیں کن وزارتوں، محکموں اور سرکاری قواعد کے تحت بھرتی کیا گیا؟
3۔ ان کی تقرریوں اور بعد ازاں تعیناتیوں کی منظوری کس نے دی؟
4۔ کیا ان کی تنخواہیں اور دیگر مراعات عوامی خزانے سے ادا کی جا رہی ہیں؟
5۔ کیا ان کے فرائض سرکاری ذمہ داریوں پر مشتمل ہیں یا نجی گھریلو خدمات پر؟
6۔ کیا ان کی بھرتی کا عمل شفاف تھا اور متعلقہ سول سروس قوانین کے مطابق تھا؟
نیب اور متعلقہ سرکاری محکموں کو ایسی تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لانے چاہئیں اور یہ تعین کرنا چاہیے کہ آیا قومی خزانے کو کوئی مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
سینکڑوں جعلی الاٹمنٹ لیٹرز کا معاملہ
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک میں سیاسی پسندیدہ افراد اور نجی ایجنٹوں کو رشوت کے عوض سینکڑوں جعلی الاٹمنٹ لیٹر جاری کیے گئے، جبکہ سرکاری جنرل ویٹنگ لسٹ میں ہزاروں درخواست گزار اپنی باری کے انتظار میں تھےسرکاری رہائش گاہیں عوامی وسائل ہیں اور انہیں سیاسی حامیوں کو نوازنے یا غیر قانونی آمدنی پیدا کرنے کے لیے سیاسی کاروبار میں تبدیل نہیں کیا جا سکتااگر جے یو آئی (ف) کے وزراء کے ادوار میں بے ضابطگیاں ہوئیں تو متعلقہ عہدیداروں اور سرکاری اہلکاروں کی ذمہ داری کا تعین شفاف تحقیقات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
نیب سے تحقیقات مکمل کرنے کا مطالبہ
ان الزامات کی بڑھتی ہوئی تعداد نے قومی احتساب بیورو سے فضل الرحمان کے معلوم ذرائع آمدن سے بڑھ کر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ تحقیقات مکمل کرنے یا ان کی وضاحت کرنے کے مطالبات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔
یہ معاملہ توجہ کا مستحق ہے کیونکہ احتساب میں امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا تحقیقات میں اسلام آباد کی مذکورہ جائیدادوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر مقامات پر زمینوں کی ملکیت، مبینہ بے نامی انتظامات، گھوڑوں کے اصطبل، سرکاری ملازمین کی تعیناتی اور جے یو آئی (ف) کی قیادت سے منسلک اداروں کی مالی معاونت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔تحقیقات میں کوئٹہ اور کراچی میں مبینہ تجارتی جائیدادوں اور دبئی میں پرتعیش اپارٹمنٹس کا معاملہ بھی شامل ہونا چاہیے، جہاں ملکیت اور مالی شواہد دستیاب ہوں۔