ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تقاضوں کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔
فاروق ستار نے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے موجودہ چار صوبے انتظامی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات اور اختیارات تک بہتر رسائی مل سکے۔
انہوں نے موجودہ صوبائی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چاروں صوبے چند خاندانوں کی اجارہ داری برقرار رکھنے کی مشینری بن چکے ہیں۔ جب شہریوں کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے تو محرومیوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
نئے انتظامی یونٹس
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پاکستان کو اب شراکتی اور شمولیتی جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے چاروں صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس قائم کرنا ضروری ہیں۔
ان کے مطابق اختیارات اور انتظامی ذمہ داریوں کی بہتر تقسیم سے عوامی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مقامی سطح پر فیصلہ سازی کا نظام مضبوط ہونے سے شہریوں کی ضروریات پر زیادہ توجہ دی جاسکتی ہے۔
فاروق ستار نے واضح کیا کہ انتظامی تقسیم کا معاملہ صرف آبادی میں اضافے تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق عوامی محرومیوں، بنیادی سہولیات اور حکومتی اختیارات کی منصفانہ تقسیم سے بھی ہے۔
سندھ کی تقسیم کا معاملہ
ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ میں بھی انتظامی تقسیم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے ذریعے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جانی چاہیے۔
ان کے اس بیان نے نئے صوبوں اور سندھ کی انتظامی تقسیم سے متعلق سیاسی بحث کو دوبارہ اہمیت دے دی ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کا معاملہ طویل عرصے سے سیاسی اور انتظامی مباحث کا حصہ رہا ہے۔ اس بحث میں آبادی، وسائل کی تقسیم، اختیارات اور علاقائی نمائندگی جیسے معاملات مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔
فاروق ستار کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان ایک مرتبہ پھر انتظامی اختیارات کی تقسیم اور نئے یونٹس کے قیام کو قومی سیاسی بحث میں نمایاں کرنا چاہتی ہے۔