ملکی تاریخ میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے نام نہاد رہنماؤں کا کچا چٹھا کھل کر سامنے آ گیا ہے فضل الرحمان کے 14 ایسے کرتوت اور مالی اسکینڈلز بے نقاب ہوئے ہیں جنہوں نے ان کی نام نہاد دینی قیادت کا غبارہ بیچ چوراہے پھاڑ کر رکھ دیا ہے۔
ملک بھر میں زمینوں کے ناجائز قبضوں، حج کوٹہ کرپشن اور بے نامی جائیدادوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں،سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار جبار چوہدری نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے اہم انکشافات کئے ہیں۔
غیر قانونی مدارس اور سرکاری زمینوں پر قبضے
انہوں نے کہا کہملک بھر کے تقریباً 40 ہزار مدارس میں سے 20 ہزار غیر رجسٹرڈ ہیں، جن میں سب سے بڑی تعداد فضل الرحمان اور ان کے حواریوں کی ہے۔
ان غیر قانونی مدارس کو قائم رکھنے کا بنیادی مقصد بیرونی فنڈز اور ملنے والے پیسوں کا کوئی آڈٹ نہ ہونے دینا ہے۔ ان کا ایک بھی مدرسہ حلال یا قانون کے مطابق خریدی گئی زمین پر نہیں، بلکہ تمام مدارس سرکاری اراضی، پارکوں اور گرین بیلٹس پر ناجائز قبضے کرکے بنائے گئے ہیں۔
کارگل شہداء کی اراضی کی لوٹ مار اور GTS اسکینڈل
فضل الرحمان کی مالی ہوس نے شہداء کو بھی نہیں بخشا۔ 2004ء میں کارگل کے شہداء اور فوجی جوانوں کے نام الاٹ کی گئی سینکڑوں کنال زمین پر ناجائز قبضہ کیا گیا،2006ء میں ایم ایم اے حکومت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے 3 ہزار 640 کنال اراضی الاٹ کروائی گئی۔
دسمبر 2020ء میں جنرل ٹرانسپورٹ سروس (GTS) کے خاتمے پر کروڑوں روپے کی قیمتی زمین فضل الرحمان کے فرنٹ مین کو محض 40 لاکھ روپے میں کوڑیوں کے بھاؤ دے دی گئی، جس پر نیب کے نوٹسز کے باوجود آج تک کوئی جواب جمع نہیں کرایا گیا۔
اسلام آباد کے پوش علاقے چک شہزاد سمیت پشاور، کوئٹہ، شورکوٹ، کراچی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں فضل الرحمان اور ان کے فرنٹ مینوں امان اللہ، مفتی ابرار وغیرہ کے نام پر اربوں روپے کی مشکوک اور بے نامی جائیدادیں سامنے آئی ہیں۔
اس کے علاوہ 1990ء کی دہائی میں بینظیر بھٹو کی حکومت کو بلیک میل کرکے افغانستان کے لیے ڈیزل کے پرمٹس حاصل کیے گئے، جس پر انہیں ملک بھر میں ڈیزل کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
حج کوٹے میں کرپشن اور طالبان رجیم سے روابط
جبار چوہدری نے مزید کہا کہ فضل الرحمان کے فرنٹ مینوں، جن میں مفتی ابرار اور سابق ڈی جی حج عبدالوہاب شامل ہیں، کے ذریعے حج جیسے مقدس فریضے کے کوٹے اور اربوں روپے کے ٹھیکوں سے سنگین کمیشن خوری کی گئی۔
2003ء میں پرویز مشرف کی فوجی حکومت کو 17ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دینا ہو یا 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری، فضل الرحمان نے ہمیشہ اپنے ذاتی و مالی مفادات کے لیے دین اور آئین کا سودا کیا۔ملا ہیبت اللہ اور افغان طالبان رجیم کے ساتھ مشکوک اور براہِ راست رابطے قائم کرکے مدارس کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
پنجاب حکومت کا ایکشن اور دین فروشی کا احتساب
ان تمام سنگین مالی بدعنوانیوں پر پنجاب حکومت اور وفاقی اداروں کی جانب سے کڑا ایکشن شروع کر دیا گیا ہے، مساجد کے علماء اور ائمہ کی عزتِ نفس کی بحالی اور غیر قانونی اراضی پر بنے مدارس کا آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ علماء کو مانگنے والا اور فضل الرحمان جیسے مولویوں کا محتاج بنانے کے عمل کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے، جبار چوہدری کے مطابق کے مطابق مذہب کے لبادے میں اقتدار اور مالی مفادات حاصل کرنے کا یہ پورا کھیل اب خالصتاً دین فروشی بن چکا ہے۔
جبار چوہدری نے کہا کہ فضل الرحمان کے یہ 14 کرتوت اس بات کا ثبوت ہیں کہ نام نہاد مولانا کی پوری سیاست کا دین سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ صرف اور صرف مال بٹورنے، اراضی پر قبضے کرنے اور دین فروشی کا ایک گھناؤنا دھندا ہے۔
جبار چوہدری نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کارگل شہداء کی زمینوں کی لوٹ مار سے لے کر حج کوٹے کی کرپشن اور 20 ہزار غیر رجسٹرڈ مدارس کے کالے دھندے تک، فضل الرحمان کا پورا کا پورا نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا ہے اور اب قوم کے سامنے ان کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں بچی۔