گورنر راج اور وزارتوں میں حصہ نہ ملا تو تیور بدل گئے، مردان کے شہریوں نے فضل الرحمان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

گورنر راج اور وزارتوں میں حصہ نہ ملا تو تیور بدل گئے، مردان کے شہریوں نے فضل الرحمان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

اقتدار کی ہوس، وزارتی مرادعات اور سیاسی جوڑ توڑ کا کھیل جب بند ہوا، تو اچانک اسلام، آئین اور عوام کا درد یاد آ گیا ، مردان میں عوام نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمت عملی اور ریاست مخالف بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔

 شہریوں کا کہنا ہے کہ مولانا صاحب طویل عرصے سے دین اور اسلام کے نام پر سیاست کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے دہرے معیار اپناتے ہیں۔

 آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں مقامی شہریوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ نے ماضی میں جتنے بھی جلسے اور لانگ مارچ کیے، ان کا مقصد عوامی فلاح نہیں بلکہ ذاتی اور سیاسی مراعات کا حصول تھا۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ جب انہیں حکومت اور وزارتیں مل جاتی ہیں تو مہنگائی کا سارا غصہ اور ‘کیڑا’ یک دم ختم ہو جاتا ہے، لیکن جیسے ہی انہیں اقتدار یا گورنر راج میں مطلوبہ حصہ نہیں ملتا، ان کے تیور اور بیانات یکسر بدل جاتے ہیں۔

 شہریوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ مولانا صاحب کو سرکاری اور ریاستی مراعات تو بھرپور طریقے سے مل رہی ہیں، مگر وہ ذاتی مفادات کے لیے ریاست کے خلاف بیانات دینے سے گریز نہیں کرتے۔

 شہریوں نے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ کو آڑے ہاتھوں لیتے کہا کہ  فضل الرحمن موصوف ہمیشہ ‘وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں’ ، جب اقتدار میں حصہ مل جائے تو وہ حکمرانوں کے ہمنوا بن جاتے ہیں اور حصہ نہ ملنے پر سخت مخالفت پر اتر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :10 سال کشمیر کمیٹی کے نام پر عیاشی، کام ٹکے کا نہیں ! مظفرآباد کے شہریوں کا فضل الرحمان سے ایوان میں معافی کا مطالبہ

شہریوں نے کشمیر کے حوالے سے بات کرتے کہا  کہ  کشمیرکمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کی سابقہ کارکردگی کو بھی کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے ،  عوام نے  یہ پرزور مطالبہ کیا  کہ نہ صرف مولانا فضل الرحمان بلکہ ان کے وزارتوں میں موجود بیٹوں کے اثاثوں اور کارکردگی کا بھی شفاف احتساب ہونا چاہیے۔

عوام کا دوٹوک موقف ہے کہ اب مذہب اور اسلام کے نام پر بلیک میلنگ کا یہ کھیل مزید نہیں چلے گا،  وقت آ گیا ہے کہ قومی وسائل لوٹنے اور مفاد پرستانہ سیاست کرنے والے تمام عناصر کا کڑا احتساب کیا جائے تاکہ ملک اور قوم کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

مردان کے شہریوں کا یہ ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اب لفاظی اور مفاد پرستانہ سیاست کا شکار ہونے والے نہیں ہیں ، ریاست کے خلاف دیے جانے والے بیانات کا فوری نوٹس لیا جائے اور مولانا فضل الرحمان سمیت ان کے وزارتی عہدوں پر فائز رہنے والے بیٹوں اور کشمیر کمیٹی کی سابقہ کارکردگی کا بلاامتیاز اور شفاف احتساب کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : مفاد ملے تو ریاست ماں کے جیسی ، اور نہ ملے تو زہر افشانی شروع ! فضل الرحمٰن کی دوغلی سیاست کا پول ڈی آئی خان کے عوام نے کھول دیا

قوم جاننا چاہتی ہے کہ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں نے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے کیا کچھ حاصل کیا۔ اگر آج ان کا کڑا احتساب نہ کیا گیا تو مذہب کے نام پر بلیک میلنگ اور سیاسی سودے بازی کا یہ کاروبار یونہی چلتا رہے گا، جس کی اجازت اب کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔

editor

Related Articles